آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
نیوزی لینڈ کا گاؤں بلّیوں پر پابندی کیوں لگانا چاہتا ہے؟
- مصنف, کیلی لیہی کوپر
- عہدہ, بی بی سی نیوز
نیوزی لینڈ کے جنوبی ساحلی دیہات میں پالتو بلیوں پر پابندی لگائے جانے کا منصوبہ بنایا جا رہا ہے اور اس کا مقصد وہاں کی قدیم جنگلی حیات کا تحفظ کرنا ہے۔
ساؤتھ لینڈ ماحولیاتی ادارے کی جانب سے تجویز کردہ اقدامات کے تحت نیوزی لینڈ کے علاقے اومایوئی میں ان بلیوں کے مالکان کو ان کی جنسی صلاحیت ختم کروانے اور ان میں مائیکر چپ ڈالوانے کے بعد انہیں حکام کے پاس رجسٹرڈ کروانا ہوگا۔
جن لوگوں کے پالتو جانور مر جائیں گے انہیں مزید پالتو جانور حاصل کرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔
یہ بہت انتہا پسند معلوم ہوتا ہے لیکن لوگوں کو کچھ دیگر باتوں پر بھی غور کرنا ہوگا۔ یہ بلیاں ہر سال اربوں پرندوں اور میملز کی موت کی ذمہ دار ہیں اور کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ اس میں قصور ہمارا ہے۔
اسی بارے میں
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
سمتھسونین مائگریٹری برڈ سینٹر کے ڈاکٹر پیٹر مارا نے کئی مضامین اور کتابیں لکھیں۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ بلیوں کے خلاف یا بلیوں کو پالنے کے خلاف نہیں ہے۔
بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا ’بلی ایک حیرت انگیز پالتو جانور ہے۔ یہ لاجواب ہیں لیکن انہیں باہر گھومنے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے۔ اور اس کا یہی واضح حل ہے۔`
’ہم کتوں کو کبھی ایسا نہیں کرنے دیتے اور اب وقت آ گیا ہے کہ ہم بلیوں کے ساتھ کتّوں جیسا سلوک کریں۔`
اومایوئی میں حکام کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات بجا ہیں کیونکہ کیمروں میں کئی بلیوں کو پرندوں، حشرات اور رینگنے والی جانوروں پر حملے کرتے دیکھا گیا ہے۔
بائیو سکیورٹی آپریشن کے ڈائریکٹر علی ماید نے وضاحت کی کہ ’آپ کی بلّی اپنی قدرتی زندگی جی سکتی ہے ویسے ہی جیسے وہ جی رہی ہیں لیکن اس کے مرنے کے بعد آپ نئی بلی نہیں لا سکتے۔‘
اس پابندی پر عمل نہ کرنے والوں کو نوٹس جاری کیا جائے گا جس کے بعد حکام خود ان جانوروں کو وہاں سے نکالیں گے۔ لیکن یہ آخری حل کے طور پر کیا جائے گا۔
اومایوئی میں لینڈ کیئر چیریٹیبل ٹرسٹ کے سربراہ جان کولین نے اس پابندی کی حمایت کرتے ہوئے کہا یہ اعلی قدرتی خزانوں کے تحفظ کے لیے ہے۔
اوٹیگو ڈیلی ٹائمز سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا ’ہم بلیوں سے نفرت نہیں کرتے لیکن ہم چاہتے ہیں کہ ہمارا ماحول جنگلی حیات سے بھرپور ہو۔‘
بلیاں کتنا بڑا مسئلہ ہیں؟
اومایوئی میں بلّیوں کے باعث آلودگی اور ماحویاتی نظام پر اثر انداز ہونا نئی بات نہیں۔
ماحولیات کے تحفظ سے متعلق سائنسدانوں نے بہت پہلے ہی خبردار کیا تھا کہ جنگلی اور آوارہ بلیاں قدرتی ماحولیاتی نظام پر اثر انداز ہو رہی ہیں۔ انہیں دنیا کی 100 بدترین غیر مقامی حملہ آور مخلوقات میں شامل کیا گیا ہِے۔
ڈاکٹر مارا کے مطابق 63 اقسام کے مخلوقات کو دنیا میں ناپید ہوگئی ہیں ان کا ذمہ دار بلّیوں کی بڑھتی ہوئی آبادی کو قرار دیا جاتا ہے۔ اور یہ مسئلہ نیوزی سمیت حسّاس قدرتی ماحول والے علاقوں میں شدت اختیار کر چکا ہے۔
’ایسا کرنا شاید شدت پسند لگتا ہے لیکن صورت حال قابو سے باہر جا چکی ہے۔‘
ان کا خیال ہے کہ دنیا میں بلّیوں سے پیار کرنے والوں کو جانوروں کے اپنی سوچ کو بدلنا ہوگا۔
ان کے اصرار تھا کہ ’اس میں بلیوں کا قصور نہیں بلکہ غلطی انسانوں کی ہے۔‘
سوشل میڈیا پر اور میمز میں ان کی بڑھتی ہوئی مقبولیت کے باعث بلّیاں پالنے میں کوئی کمی دیکھنے میں نہیں آ رہی۔
’یہ پیاری ہوتی ہیں، ان کی ہر چیز اچھی لگتی ہے اور یہی اس حوالے سے چیزوں کو مشکل بناتی ہے۔‘
اصل تعداد بتانا تو تھوڑا مشکل ہے تاہم امریکہ میں قریباً آٹھ کروڑ ساٹھ لاکھ پالتو بلّیاں ہیں یعنی ہر تین میں سے ایک گھرانے کے پاس بلی ہے۔
اس کے علاوہ لاتعداد جنگلی بلّیاں جن کی موجودگی کا مطلب ہے ماحولیات میں بڑے پیمانے پر ہلاکتیں۔
ایک اندازے کے مطابق امریکہ میں چار ارب پرندے اور 22 ارب ممالیہ جانور بلیوں کے ہاتھوں مارے جاتے ہیں۔
حتی کے برطانیہ میں بھی جنگلی حیات کی آبادی کم ہو رہی ہیں اور ماہرین اس کا الزام بلیوں کے سر ڈالتے ہیں۔ میمل سوسائٹی کے بقول 55 لاکھ پرندے ہر سال کم ہو رہے ہیں۔
’پیدائشی قاتل‘
یہ پہلی بار نہیں ہے کہ نیوزی لینڈ میں بلی کو ایک خطرہ قرار دیا گیا ہے۔
یہ آسٹریلیا میں بھی موضوع بحث ہیں جہاں جنگلی اور آوارہ بلیوں کو ہر رات لاکھوں مقامی جانوروں کی ہلاکت کا باعث قرار دیا جاتا ہے۔
وہاں ملک میں سنہ 2015 سے اس کے لیے فنڈنگ اکٹھی کی جارہی ہے اور گھریلو بلیوں کے لیے باہر نکلنے پر ملک بھر میں کرفیو عائد کیے جانے کے بارے میں بھی سوچا جا رہا ہے۔
کونسلز اور سٹیٹ حکومتیں بلّیوں کے مسائل کو اپنے ہاتھوں میں لے رہی ہیں۔ بلّیوں کو رات کے وقت گھروں کے اندر رکھنے کی تاکید کی جاتی ہے اور گھریلوں بلّیوں کا کوٹا مقرر کرنے کے ساتھ ساتھ ان کی شناخت، اور تولیدی صلاحیت ختم کرنا بھی ضروری ہے۔
تاہم بلیوں کے خلاف کیے جانے والے اقدامات متنازع رہتے ہیں۔ گذشتہ برس جانوروں کے حقوق کی تنظیموں نے اس کی مذمت کی تھی خاص طور پر کوئنز لینڈ کی ایک کونسل کی جس نے فی بلی کے سر کی قیمت 10 ڈالر مقرر کی تھی۔
اومائی کے مقامی لوگوں نے مقامی میڈیا کو بتایا کہ وہ پابندی کے اس فیصلہ پر حیران ہیں اور اس کے خلاف مزاحمت کریں گے۔
ایک خاتون نکو جاروس کا کہنا تھا ’یہ لوگوں کے بلّیاں پالنے کے اہلیت کو ضابطے میں لانے کی بات نہیں کر رہے بلکہ کہہ رہے ہیں کہ آپ بلّی رکھ ہی نہیں سکتے۔‘
مقامی لوگوں کی اکتوبر کے آخر تک اپنی بلّیوں کو رجسٹر کروانا ہے۔