دنیا بھر میں سرخ چاند کے مناظر

دنیا بھر میں لوگوں نے اکیسویں صدی کے طویل ترین اور ’خون رنگ‘ کہلانے والے چاند گرہن کا نظارہ کیا۔

ایتھنز کے قریب یونان میں چاند اس مندر کے ساتھ سرخی مائل ہوتا دیکھائی دیا۔

چاند گرہن کے دوران زمین چاند اور سورج کے درمیان آ جاتی ہے۔

اگرچہ چاند براہ راست سورج کی روشنی شے نہیں چمکتا تاہم زمین کے کناروں سے چھن کے آنے والی روشنی اسے اندھرے میں ڈوبنے نہیں دیتی۔ اس کی وجہ سے چاند کا رنگ نارنجی، بھورا یا سرخ ہو جاتا ہے۔

یہ گرہن افریقہ سے مشرقٌ وسطی تک، یورپ، روس، انڈیا، پاکستان اور آسٹریلیا میں دکھائی دیا۔

فرانس میں امریکی فنکار جانتھن بروفسکی کے سکپچر کے پرے دکھائی دیتا چاند گرہن۔

سوئس ایپلس پر مکمل وجاہت کے ساتھ نظر آتا گرہن زدہ چاند۔

اس گرہن کو دیکھنے کے لیے آنکھوں کے لیے کوئی خاص احتیاطی تدابیر کرنے کی ضرورت نہیں تھی۔

ابو ظہبی میں شیخ زید مسجد کے اوپر سے گزرتا ہوا چاند گرہن۔

سڈنی میں لوگ چاند گرہن دیکھنے کے لیے جمع ہیں۔

تائیوان میں لوگوں نے اس منظر کو دیکھنے کے لیے دور بینیں نصب کیں۔ یہ مکمل چاند گرہن 43 منٹ تک جاری رہا۔

تمام تصاویر کے حقوق محفوظ ہیں