ڈنمارک: بچوں کی سیکس کی ویڈیو شیئر کرنے پر ایک ہزار افراد سے پوچھ گچھ

Stock image of a close up of schoolgirl typing text message on a mobile phone at a desk in aclassroom

،تصویر کا ذریعہGetty Images

ڈنمارک میں پولیس نے جنسی مواد کی تشہیر کرنے پر ایک ہزار سے زیادہ نوجوان سے پوچھ گچھ کی ہے۔ ان افراد پر الزام ہے کہ انھوں نے فیس بک میسنجر پر نابالغ بچوں کی سیکس کی ویڈیو شیئر کی ہے۔

اس ویڈیو میں پندہ سال کے دو بچے سیکس کر رہے ہیں۔

پولیس کا کہنا ہے کہ ویڈیو میں سیکس کرنے والے بچوں کی عمریں اٹھارہ سال سے کم ہیں، اسی لیے ان افراد پر بچوں کی غیر مناسب ویڈیو کی تشہیر کا الزام ہے۔

اس بارے میں یہ بھی پڑھیے

فیس بک نے ان افراد کے بارے میں امریکی حکام کو آگاہ کیا، جنھوں نے ڈنمارک کی پولیس کو مطلع کیا۔ ڈنمارک کی پولیس نےملک بھر سے مجموعی طور پر ایک ہزار چار افراد سے پوچھ گچھ شروع کی ہے۔

یہ ویڈیو شیئر کرنے والے بعض افراد کی عمر اٹھارہ سال سے زیادہ ہے اور انھیں پولیس سٹیشن بلوایا گیا ہے جبکہ اٹھارہ سال سے کم عمر افراد سے اُن کے والدین کے ذریعے رابطہ کیا گیا۔

پولیس کا کہنا ہے کہ ان افراد کو تنبیہ کی گئی ہے کہ دوبارہ ایسی ویڈیو شیئر نہ کریں اور یہ جرم ثابت ہونے پر مجرم کو بیس دن تک مشروط قید کی سزا ہو سکتی ہے۔

بچوں کی غیر مناسب تصاویر اور ویڈیو شیئر کرنے کا الزام ثابت ہونے والے کو آئندہ دس سال تک چائلڈ پورنوگرافی کے مجرم کے طور پر رجسٹرڈ کیا جائے گا۔

ڈنمارک سمیت دنیا بھر کے کئی ممالک میں انتقام کے طور پر بچوں کی نامناسب تصاویر بنانے اور انٹرنیٹ پر شیئر کرنے کے رجحان حوصلہ شکنی کے لیے مزید اقدامات کرنے کا مطالبہ زور پکڑ رہا ہے۔