واٹس ایپ پر’بچوں کی فحش تصاویر شیئر‘ کرنے والا گروہ پکڑا گیا

،تصویر کا ذریعہGetty Images
یورپ اور جنوبی امریکہ میں حکام نے بظاہر واٹس ایپ کے ذریعے بچوں کے جنسی استحصال پر مبنی تصاویر کو تقسیم کرنے والے نیٹ ورک کے درجنوں افراد کو گرفتار کیا ہے۔
سپین کی نیشنل پولیس، یوروپول اور انٹرپول نے یورپ اور جنوبی امریکہ سے 39 مشتبہ افراد کو گرفتار کیا ہے۔
سپین کے تحقیقاتی حکام نے گذشتہ برس اس نیٹ ورک کو پکڑا تھا جو انٹرنیٹ پر صارفین کو موبائل میسجنگ سروس وٹس ایپ کے نجی گروپس تک رسائی دیتا تھا۔
تحقیق کے دوران معلوم ہوا کہ ان گروپس میں غیر قانونی تصاویر کو شیئر کیا جاتا ہے۔
یوروپول کے مطابق گرفتاریوں کے دوران تلاشی کے عمل میں بچوں سے جنسی استحصال پر مبنی سینکڑوں ڈیوائسز میں کئی ٹیرا بائٹس مواد برآمد کیا گیا۔
سپین کی پولیس کے مطابق اس میں تین لاکھ ساٹھ ہزار سے زائد فائلز شامل ہیں۔
آپریشن تنتالیو نامی اس بین الاقوامی کارروائی میں جرمنی، سپین، پرتگال اور چلی، ارجنٹینا سمیت جنوبی امریکہ کے کئی ممالک شامل تھے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انٹرپول نے کہا ہے کہ اس آپریشن کے نتیجے میں سینکڑوں کی تعداد میں تصاویر اور ویڈیوز برآمد ہوئی ہیں اور انھیں بچوں سے جنسی استحصال سے متعلق بنائے گئے ڈیٹا میں شامل کیا گیا ہے جس کی مدد سے تفتیش کاروں کو اس مواد کی مدد سے متاثرین، بدسلوکی کرنے والوں اور مقامات کے بارے میں معلومات مل سکیں گی۔
ابھی تک وٹس ایپ کی مالک کمپنی فیس بک کی جانب سے اس کارروائی پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔








