آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
فون کی کارکردگی ’آہستہ‘ کرنے پر ایپل کمپنی کی معافی
ٹیکنالوجی کمپنی ایپل نے مسلسل شکایات اور اس تنقید کے بعد معافی مانگی ہے جہاں کمپنی پر الزام لگایا گیا تھا کہ وہ جان بوجھ کر اپنے پرانے آئی فون موبائل کی کارکردگی کو آہستہ کر دیتی ہے۔
خیال رہے کہ اس سے قبل سوشل میڈیا ویب سائٹ 'ریڈ اِٹ' پر ایک صارف نے اپنے آئی فون 6 ایس کی کارکردگی کے نتائج پوسٹ کیے جن سے ظاہر ہوتا تھا کہ ان کا فون بہت سست پڑ گیا تھا، لیکن جب اس کی بیٹری تبدیل کی گئی تو وہ پھر سے تیز ہو گیا۔ بعد میں ایپل نے تسلیم کیا کہ وہ پرانے فونز کے آپریٹنگ سسٹم میں تبدیلیاں لا کر ان کی بیٹریوں کی زندگیاں بڑھانے کی کوشش کر رہا ہے۔
کمپنی نے کہا ہے کہ وہ کم قیمت میں فون کی بیٹری تبدیل کر دے گی اور ساتھ ساتھ اگلے سال سافٹ ویئر بھی جاری کرے گی جس کی مدد سے صارفین اپنے فون کی بیٹری کی صحت کو جانچ سکیں گے۔
ایپل کے کئی صارفین کو شک تھا کہ کمپنی پرانے آئی فون کی رفتار اور کارکردگی جان بوجھ کر آہستہ کر دیتی ہے تاکہ لوگ نئے ماڈل کے آئی فون خریدنے پر مجبور ہو جائیں۔
ایپل نے اپنے اعتراف میں کہا کہ وہ پرانے فون کو آہستہ کر دیتے ہیں لیکن اس کی وجہ ان فونز کی زندگی بڑھانا ہوتی ہے تاکہ وہ زیادہ عرصے چل سکیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ایپل کی ویب سائٹ پر جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ وہ وارنٹی گذر جانے کے بعد بیٹری تبدیل کرنے کی قیمت میں کمی کر رہے ہیں اور اب صارفین 79 ڈالر کے بجائے 29 ڈالر میں بیٹری تبدیل کر سکیں گے۔
اپنے بیان میں کمپنی نے مزید کہا کہ وہ 'صارفین کی شکایات کا جائزہ لے رہیں ہیں تاکہ ان کا ازالہ کیا جا سکے اور صارفین کے اعتماد کو جو ٹھیس پہنچی ہے ان کا کمپنی پر اعتماد بحال کیا جا سکے۔'
خیال رہے کہ امریکہ بھر میں ایپل پر اس شکایت کی وجہ سے آٹھ مقدمات درج کیے جا چکے ہیں اور اس کے علاوہ فرانس اور اسرائیل میں بھی ان کے خلاف قانونی کاروائی کی جا رہی ہے۔
ایپل کمپنی نے فون آہستہ کرنے کے الزامات پر کہا کہ اس نے فون کے سافٹ وئیر میں تبدیلیاں کی ہیں تاکہ لیتھیئم آئن سے بنی ہوئی بیٹریاں بہتر کام کر سکیں کیونکہ پرانی ہو جانے کے بعد ان کی کارکردگی میں گراوٹ آجاتی ہے۔
اس سے قبل نومبر میں ایپل نے ایک سیکورٹی اپ ڈیٹ جاری کی تھی کیونکہ ان کے میک آپریٹنگ سسٹم میں ایک کمزوری دریافت ہوئی تھی جس کی مدد سے ہیکرز کے لیے ممکن تھا کہ وہ اس کمپیوٹر میں بغیر پاس ورڈ کے رسائی حاصل کر لیں۔