’جراثیم کے خلاف نئی اینٹی بائیوٹکس بنانے میں شدید مشکلات کا سامنا‘

اینٹی بائیوٹکس

،تصویر کا ذریعہGetty Images

عالمی ادارہ صحت کی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جراثیم کے خلاف مزاحمت کرنے والی نئی اینٹی بائیوٹکس بنانے کے عمل میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس وقت جو ادویات موجود ہیں وہ موجودہ اینٹی بائیوٹکس ہی کی نئی شکلیں ہیں جو کہ قلیل مدتی حل ہے۔

عالمی ادارہ صحت کی رپورٹ سے معلوم ہوا ہے کہ ادارے کی جانب سے جن کی نشاندہی کردہ صحت کے لیے سب سے زیادہ خطرات پیدا کرنے والے انفیکشنز کے لیے بہت ہی کم علاج کے بنیادی طریقہ کار موجود ہیں۔

ان بیماریوں میں ادویات کے خلاف مزاحمت کرنے والی بیماری تب دق بھی شامل ہے جس سے ہر سال تقریباً ڈھائی لاکھ افراد ہلاک ہو جاتے ہیں۔

دنیا کی آبادی کی صحت کو لاحق خطرات میں ایک بڑا خطرہ ایسے جراثیم ہیں جن پر کسی قسم کی ادویات اثر نہ کریں۔

گذشتہ فروری میں عالمی ادارہ صحت نے ایسے جراثیم کی فہرست جاری کی تھی جن پر ادویات کا اثر نہیں ہو رہا اور وہ انسانی صحت کے لیے سب سے بڑا خطرہ ہیں۔

ڈبلیو ایچ او کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر ٹیڈروس ایڈہینام گیبریئسس کا کہنا ہے کہ ’اینٹی بائیوٹکس کے خلاف مزاحمت کرنے کی صلاحیت رکھنے والے انفیکشنز جن میں ٹی بی بھی شامل ہے پر مزید اور فوری تحقیق، سرمایہ کاری اور پیداوار کی ضرورت ہے۔‘

اینٹی بائیوٹکس

،تصویر کا ذریعہScience Photo Library

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’دوسری صورت میں ہم واپس اس دور میں لوٹ جائیں گے جب لوگ عام جراثیم سے ڈرتے تھے اور چھوٹی چھوٹی سرجریز میں بھی جان کھو بیٹھیں گے۔‘

اس رپورٹ میں ترجیحاتی بنیادوں پر اینٹی بائیوٹکس کے خلاف مزاحمت کرنے والے 51 نئے اینٹی بائیوکٹس اور بائیولیجکلز کی نشاندہی کی گئی ہے۔

ان تمام نئی اینٹی بائیوٹکس ادویات میں سے صرف آٹھ ایسی ہیں جنھیں ڈبلیو ایچ او نے جدید اور اینٹی بائیوٹک علاج کے لیے اہم قرار دیا ہے۔

یہ خیال کیا جاتا ہے کہ یورپ اور امریکہ میں ہر سال 50 ہزار افراد اینٹی بائیوٹکس کے خلاف جراثیم کی مدافعت کے باعث موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں۔

عالمی ادارہ صحت کے تب دق پروگرام کے ڈائریکٹر ڈاکٹر ماریو راویگلائن کا کہنا ہے کہ ’تب دق پر تحقیق کے لیے فنڈز کی شدید کمی ہے۔ 70 سالوں میں صرف دو نئے اینٹی بائیوٹکس اس بیماری کے لیے مارکیٹ میں لائے جا سکے ہیں۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ ’اگر ہم تب دق کو ختم کرنا چاہتے ہیں تو اس کے لیے تحقیق کرنے کے لیے سالانہ80 کروڑ ڈالر کی فوری ضرورت ہے۔‘