آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
فیس بک کی سینسرشپ سے متعلق ’عجیب‘ پالیسی
برطانوی اخبار گارڈیئن کا کہنا ہے کہ افشا ہونے والی دستاویزات سے ظاہر ہوتا ہے کہ فیس بک اپنے صارفین کے دیکھے گئے مواد کو کیسے سینسر کرتا ہے۔
دستاویزات سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس کا پوسٹس کے بارے میں کوئی فیصلہ کرنے کا طریقہ کار یہ ہے کہ کیا وہ بہت زیادہ پرتشدد، جنسی، نسل پرستانہ، نفرت انگیز یا دہشت گردی کے حمایت کرنے والی ہیں۔
گارڈیئن کا کہنا ہے کہ فیس بک کے ماڈریٹرز یا منتظمین بہت زیادہ ’مغلوب رہتے‘ ہیں اور ان کے پاس کسی پوسٹ کو ہذف کرنے یا نہ کرنے کا فیصلہ کرنے لیے چند سیکنڈز کا وقت ہوتا ہے۔
یہ انکشافات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب برطانوی ارکان پارلیمان کا کہنا تھا سوشل میڈیا کی بڑی کمپنیاں زہریلے مواد سے نبردآزما ہونے میں ’ناکام ہورہی ہیں۔‘
اخبار کا کہنا ہے کہ ان کے ہاتھ فیس بک کے ماڈریٹرز کی تربیت کے لیے استعمال ہونے والے ایک سو سے زائد کتابچے لگے ہیں جن کے مطابق کیا کچھ ویب سائٹ پر پوسٹ کیا جا سکتا اور کیا نہیں۔
فیس بک نے تسلیم کیا ہے کہ اخبار نے جن دستاویزات کا ذکر کیا ہے وہ اندرونی طور پر اسی قسم کے دستاویزات استعمال کرتے ہیں۔
ان کتابچوں میں مختلف نوعیت کے حساس موضوعات شامل ہیں جن میں نفرت انگیز مواد، بدلے کے لیے پورن، خود کو نقصان پہنچانا، خودکشی، انسانی گوشت خوری اور تشدد کی دھمکیاں شامل ہیں۔
اخبار کو انٹرویو دینے والے فیس بک ماڈریٹرز کا کہنا تھا کہ مواد کے بارے میں فیس بک کی پالیسیاں ’غیرموافق‘ اور ’عجیب‘ ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ان کا کہنا تھا کہ جنس سے متعلق مواد کے بارے میں فیصلہ کرنا کہ رہنے دینا چاہیے یا ہذف کر دینا چاہیے سب سے زیادہ ’پیچیدہ‘ عمل ہے۔
ڈیجیٹل حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیم اوپن رائٹس گروپ کا کہنا ہے کہ اس رپورٹ سے ظاہر ہوتا ہے کہ فیس بک کا اپنے دو ارب سے زائد صارفین پر کس قدر اثر و رسوخ قائم ہوسکتا ہے۔
اوپن رائٹس گروپ کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ ’فیس بک کی جانب سے یہ فیصلے کہ کیا ہونا چاہیے اور کیا ناقابل قبول ہے، اس کا آزادی اظہار رائے پر بہت زیادہ اثر ہوسکتا ہے۔ لیکس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ فیصلے پیچیدہ اور مشکل ہیں۔‘
تنظیم کا مزید کہنا تھا کہ ’فیس بک شاید اس کو کبھی درست نہ کر سکے لیکن کم از کم انھیں اس عمل کو مزید شفاف بنانا چاہیے۔‘
فیس بک کی گلوبل پالیسی مینجمنٹ کی سربراہ مونیکا بکرٹ کا کہنا ہے کہ ’ہم فیس بک کو کس حد تک ممکن ہے محفوظ بنانے کے لیے سخت محنت کر رہے ہیں جبکہ آزادی رائے بھی قائم رہے۔ اس کے لیے بہت زیادہ سوچ اور اکثر مشکل سوالات کا سامنا ہوتا ہے۔ اور اسے درست رکھنا ایک ایسا کام ہے جس پر ہم بہت زیادہ توجہ دیتے ہیں۔‘