آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
ورچول رئیلٹی کیس: فیس بک پر 50 کروڑ ڈالر جرمانہ
امریکی عدالت نے فیس بک پر 50 کروڑ ڈالر جرمانہ عائد کیا ہے جس کی وجہ غیر قانونی طور پر کسی دوسری فرم کی ورچول رئیلٹی کا استعمال ہے۔
جیوری کا کہنا ہے کہ اوکیولس جسے فیس بک نے سنہ 2014 میں خریدا تھا نے ویڈیو گیم ڈیویلیپر زینیمیکس سے متعلق کوڈ کو اپنے ورچول رئیلٹی ہیڈ سیٹ میں استعمال کیا تھا۔
تاہم اوکیولس نے فیصلے پر مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس کے خلاف اپیل کرے گی۔
اس کیس کا فیس بک کے منافعے پر بھی اثر انداز ہونے کا خطرہ ہے جس کے بارے میں فیس بک کا دعویٰ ہے کہ وہ 177 فیصد تک بڑھا ہے۔
فیس بک کا کہنا ہے کہ گذشتہ برس اس کی مجموعی انکم دس ارب سے بڑھی ہے جس میں زیادہ تر حصہ اشتہارات
کا تھا۔ فیس بک کے مطابق اس کے صارفین کی تعداد دو ارب کے قریب پہچ چکی ہے۔
فرم نے 50 کروڑ کے ہرجانے پر بات نہیں کی۔ تاہم اس کے ترجمان کا کہنا ہے اصل کیس یہ تھا کہ اوکیولس نے زینیمیکس کے تجارتی راز چھپائے ہیں یا نہیں اور اس پر عدالت نے فیصلہ ہمارے حق میں دیا تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ادھر فیس بک کے بانی مارک زکر برگ پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ یہ دعویٰ کہ اوکلس کی مصنوعات کسی اور کی ٹیکنالوجی استعمال کر رہی ہیں غلط ہے۔
یاد رہے کہ زینی میکس جس کا آئی ڈی سافٹ وئیر ہے ایک ویڈیو ڈیویلپر ہے اور وہ فیس بک کو دو ارب ڈالر میں استعمال کر رہا ہے۔