جعلی خبریں: فیس بک کا اپنی سکیورٹی میں اضافے کا اعلان

فیس بک

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنفیس بک کے سربراہ مارک زکربرگ نے فیس بک پر جعلی خبروں کی اشاعت کو روکنے کے لیے ایک نئے منصوبے کا اعلان کیا تھا

دنیا میں سماجی روابط کی مقبول ترین ویب سائٹ فیس بک کا کہنا ہے کہ وہ عالمی حکومتوں اور دیگر عناصر کی جانب سے غلط معلومات پھیلانے اور عوامی رائے پر اثرانداز ہونے کے لیے سوشل میڈیا کے استعمال کی کوششوں کو ناکام بنانے کے لیے اپنی سکیورٹی میں اضافہ کر رہی ہے۔

اپنی ایک پالیسی دستاویز میں فیس بک نے ایسے 'انفارمیشن آپریشنز' کا اعتراف کیا ہے جن کا مقصد کسی ملک کے داخلی و خارجی سیاسی جذبات کو متاثر کرنا ہوتا ہے۔

خیال رہے کہ اس سے قبل فیس بک امریکہ کے صدارتی انتخاب کے دوران سیاسی مقاصد کے لیے جعلی خبروں اور ہیک کی گئی معلومات کی تشہیر کرنے کے لیے جعلی فیس بک اکاؤنٹس کے استعمال کی تصدیق کر چکی ہے۔

فیس بک کا کہنا ہے کہ اس سلسلے میں اس کی اپنی تفتیش سے جو معلومات حاصل ہوئی ہیں وہ امریکی خفیہ اداروں کے نتائج سے مطابقت رکھتی ہیں جن کے مطابق روس نے امریکی صدارتی انتخاب پر اثرانداز ہونے کی کوشش کی تھی۔

فیس بک کے سربراہ مارک زکربرگ نے حال ہی میں فیس بک پر جعلی خبروں کی اشاعت کو روکنے کے لیے ایک نئے منصوبے کا اعلان کیا تھا۔

انھوں نے غلط خبروں کو سنجیدگی سے لینے اور ان کی اچھی طرح سے جانچ اور تصدیق کرنے پر زور دیا تھا۔

مارک زکر برگ

،تصویر کا ذریعہunknown

،تصویر کا کیپشنفیس بک کے سربراہ مارک زکربرگ نے فیس بک پر جعلی خبروں کی اشاعت کو روکنے کے لیے ایک نئے منصوبے کا اعلان کیا تھا

مارک زکربرگ نے کہا تھا کہ فیس بک غلط خبروں کی بیخ کنی کے لیے فی الحال، بشمول اچھی طرح سے پتہ لگانے اور تصدیق کرنے سمیت، سات تجاویز پر بڑی محنت سے کام کر رہا ہے۔

اس کے تحت غلط خبروں پر جعلی مواد کا وارننگ لیبل بھی لگانے کی تجویز زیر غور ہے۔

فیس بک کے ایک دیگر منصوبے کے تحت مصنوعی ذہانت والے سافٹ ویئر کی مدد سے سائٹ پر پوسٹ کیے جانے والے شدت پسندانہ مواد کا بھی جائزہ لیا جا سکے گا۔

انھوں نے اپنے ایک خط میں اس منصوبے کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا تھا کہ بالآخر مصنوعی ذہانت والے سافٹ ویئر ایلگوردمز دہشت گردی، تشدد، غنڈہ گردی جیسے مواد کی نشاندہی کر سکیں گے اور اس سے خودکشیاں روکنے میں بھی مدد ملے گی۔

تاہم انھوں نے کہا کہ اس قسم کے سافٹ ویئر کو مکمل طور پر تیار کرنے میں برسوں لگ سکتے ہیں۔