توشیبا کو اربوں ڈالر کا نقصان، چیئرمین مستعفی

توشیبا

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنمتوقع نقصات کی خبریں سامنے آنے کے بعد سے اب تک کمپنی کے حصص میں پچاس فیصد کمی آچکی ہے

جاپان کی ٹیکنالوجی کمپنی توشیبا کے کاروبار میں ہونے والے نقصان کے بعد کمپنی کے چیئرمین شیگنوری شیگا اپنے عہدے سے مستعفی ہوگئے ہیں۔

توشیبا کے مطابق اسے 2016 اور 2017 کے کاروباری سال میں تین ارب ڈالر سے زیادہ کا نقصان ہوگا۔

کمپنی کے مطابق امریکہ میں اس کے جوہری کاروبار کی مالیت میں بھی چھ ارب ڈالر سے زیادہ کی کمی کا امکان ہے۔

تـجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ان نقصانات کی وجہ سے کمپنی کا مستقبل خطرے میں ہے۔

توشیبا کی جانب سے جاری کیے گئے بیان کے مطابق چیئرمین شیگا کاروباری نقصان کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے اپنے عہدے سے مستعفی ہوگئے ہیں۔

خیال رہے کہ گذشتہ دسمبر سے کمپنی میں متوقع نقصانات کی خبریں سامنے آنے کے بعد سے اب تک کمپنی کے حصص کی قدر میں پچاس فیصد کمی آچکی ہے۔

توشیبا

،تصویر کا ذریعہReuters

ان نقصانات کی وجہ توشیبا کی ایک ذیلی کمپنی ’ویسٹنگ ہاوس الیکٹرک‘ کی جانب سے سنہ 2015 امریکہ میں خریدا جانے والا جوہری تنصیبات کی تعمیر اور دیکھ بھال کا کاروبار ہے۔

’شکاگو بریج اینڈ آئرن‘ نامی جو کمپنی خریدی گئی تھی اس کے اثاثوں کی مالیت اندازے سے کم بتائی جاتی ہے اور اس کے ساتھ کمپنی کو ملنے والی ادائیگیوں میں بھی اختلاف سامنے آیا ہے۔

توشیبا کو ہونے والے نقصانات کے بعد اس بات کا قوی امکان ہے کہ وہ دنیا بھر میں اپنے جوہری تنصیبات سے منسلک کاروبار میں کمی کا اعلان کرے گی اور عین ممکن ہے کہ وہ جاپان کے علاوہ دیگر تمام ممالک میں جوہری کاروبار کو مکمل طور پر خیرباد کہہ دے۔

اگر ایسا ہوتا ہے تو برطانیہ کے علاقے کمبریا میں بنائے جانے والے نئے جوہری پاور پلانٹ کا منصوبہ بھی اس سے متاثر ہوگا۔