'انڈیا کی سب سے بڑی روبوٹ کمپنی کیسے بنی؟'

،تصویر کا ذریعہGreyOrange
- مصنف, کنجل پانڈیا واگھ
- عہدہ, بزنس رپورٹر، بی بی سی
سال 2008 میں انجینیئرنگ کے طالبعلم سمے کوہلی نے اپنے پروفیسر سے اس خواہش کا اظہار کیا کہ وہ ایک انسان نما روبوٹ بنانا چاہتے ہیں لیکن ان کے پروفیسر نے کہا کہ یہ ممکن نہیں ہو گا۔
لیکن حیران کن طور پر سمے کوہلی نے اپنے ساتھی طالبعلم آکاش گپتا کے ساتھ مل کر نہ صرف وہ روبوٹ بنایا بلکہ انھوں نے گرے اورنج نام کی ایک روبوٹ کپمنی بھی قائم کی ہے جو کہ انڈیا کے علاوہ ایشیا کے دوسرے ممالک میں بھی کام کر رہی ہے۔
بی بی سی سے بات کرتے ہوئے سمے کوہلی نے کہا کہ: 'ہم نے ایسے کام کیے ہیں جو کہ لوگوں نے کہا تھا کے آپ انڈیا میں کر ہی نہیں سکتے۔'
تو کلاس روم کے ایک پراجیکٹ سے لے کر روبوٹ بنانے والی عالمی کمپنی تک کا یہ سفر کیسے طے کیا گیا؟
دونوں طالبعلموں نے پہلے تو اپنے پروفیسر کو غلط ثابت کیا اور اکیوت نامی روبوٹ بنایا جس کی مدد سے انھوں نے روبوٹ بنانے کے عالمی مقابلوں میں حصہ لیا اور کامیابیاں سمیٹیں۔

،تصویر کا ذریعہGreyOrange
لیکن ا س کے بعد وہ اپنے اصل مقصد کی جانب آئے اور وہ تھا ای کامرس کے شعبے میں اپنا لوہا منوانا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انڈیا میں ای-کامرس کا رجحان تیزی سے بڑھتا جا رہا ہے اور ایک رپورٹ کے مطابق سال 2015 میں ملک میں پانچ ارب ڈالر کا نجی سرمایہ ای کامرس کے شعبہ میں لگایا گیا ہے۔
ایمیزون کمپنی نے بھی حال ہی میں اعلان کیا کہ وہ انڈیا میں تین ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کریں گے۔
اس رجحان سے سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ انٹرنیٹ پر کاروبار ای کامرس کا ایک اہم جزو ہے لیکن اس میں علیحدہ سے بھی منافع کے اضافے کے امکان کافی ہیں۔ اور ان تمام کاروبار کرنے والی کمپنیوں کو اپنا سامان رکھنے کے لیے گودام کی بھی ضرورت ہو گی جہاں وہ اپنا سامان رکھیں گے اور ساتھ ساتھ اس گودام کے انتظامات کو تیز سے تیز تر بنانا بھی ضروری ہے تاکہ خریداروں تک سامان جلد پہنچ جائے۔
یہی وہ موقع تھا جس کا گرے اورنج انتظار کر رہا تھا۔
گرے اورنج کے مطابق اس وقت انڈیا میں گوداموں کو چلانے کے خود کار نظام کے شعبے میں 90 فیصد حصہ ان کا ہے۔ پانچ ممالک میں ان کے آٹھ دفاتر ہیں جبکہ کمپنی میں 650 افراد کام کر رہے ہیں۔
سمے کوہلی نے بتایا ان کی کمپنی کے دو روبوٹ گوداموں میں کام کر رہے ہیں۔ 'ایک اکیلا شخص ایک گھنٹے میں 100 سے 120 چیزیں شیلف سے اٹھا سکتا ہے جبکہ ہمارا بٹلر نامی روبوٹ ایک گھنٹے میں 400 سے 500 چیزیں اٹھا سکتا ہے۔'
ان کا دوسرا روبوٹ سارٹر خود کار طریقے سے بھیجے جانے والے سامان کی ترتیب صحیح کرتا ہے۔
گرے اورنج نے کہا کہ ان کے روبوٹ ایک دن میں تقریباٌ تیس لاکھ سامان کی ترتیب کر سکتے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGreyOrange
گرے اورنج کے کامیابی کی راہ میں ایک بڑی رکاوٹ روبوٹس کے لیے متبادل پارٹس حاصل کرنا ہے لیکن گرے اورنج کو قائم کرنے والوں کا کہنا ہے کہ وہ مستقبل میں ملنے والے موقعے کا سوچتے ہوئے ان رکاوٹوں کا پیش قدمی سے سامنا کر رہے ہیں۔
سمے کوہلی نے کہا کہآنے والے سالوں میں روبوٹ انقلاب کا حصہ ہوں گے۔' ہمیں روبوٹس کو انسانوں کے ساتھ کام کرانا ہے، نہ کہ انسانوں کی جگہ پر کام کرانا ہے اور یہ کھربوں ڈالر حاصل کرنے کا موقع ہے۔ ہم اس موقع کو حاصل کرنے کے لیے محنت کر رہے ہیں۔ '







