نئے سال کا عہد 'کیک کلچر کے خلاف جنگ'

،تصویر کا ذریعہCOLORBLIND IMAGES
دانتوں کے ڈاکٹروں نے دفاتر میں 'کیک کلچر' کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ مٹھائیوں سے خاطر تواضع صحت کے مسائل میں اضافہ کرتا ہے۔
برطانیہ مین ڈینٹل سرجری کے شعبے کا کہنا ہے کہ لوگوں کو کام کی جگہ پر کیک اور بسکٹ کھانے میں کمی کرنی چاہیے اس سے موٹاپے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں اور منھ کی صحت خراب ہوتی ہے۔
پروفیسر نائجل ہنٹ نے کہا کہ برطانیہ کو دفاتر میں کلچر میں تبدیلی کی ضرورت ہے۔
شکر میں کمی کرنے کے مشورے کے طور پر انھوں نے کہا کہ اسے صرف لنچ کے وقت ہی رکھیں یا پھر اپنے سنیکس کو نظروں سے دور رکھیں۔
رایل کالج آف سرجن میں ڈین کے عہدے پر فائز پروفیسر ہنٹ نے کہا کہ چاہے مینیجر اپنے سٹاف کو انعام دینا چاہتے ہیں یا ساتھی جشن مناتے ہیں یا پھر لوگ اپنی چھٹیوں واپسی پر تحفے لاتے ہیں اس سب سے کام کرنے کی جگہ پر شکر والی اشیا کے پہنچنے کا زیاد امکان رہتا ہے۔
انھوں نے کہا نوکری پیشہ لوگوں کی صحت کے پیش نظر یہ اہم ہے کہ سنہ 2017 میں نئے سال کا عہد 'کیک کلچر کے خلاف جنگ' ہو۔

،تصویر کا ذریعہPA
انھوں نے کہا: اگرچہ یہ میٹھے تحفے اچھی نیت سے لائے گئے ہوں لیکن یہ موٹاپے کی وبا اور منہ کی بیماریوں میں اضافہ کرتے ہیں۔
انھوں نے مزید کہا: ہمیں دفاتر اور دوسری کام کی جگہ کا کلچر بدلنے کی ضرورت ہے اور کھانے کے صحتمند کلچر کی حوصلہ افزائی کرنے اور کیک، مٹھائیوں اور بسکٹ جیسی میٹھی چیزوں کے دام میں آنے سے بچنا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
فیکلٹی نے دفاتر میں میٹھی چیزوں سے بچنے کے لیے تدابیر بھی پیش کی ہیں:
- کم شکر والی والے متبادل پر غور کریں
- میٹھی چیز کھانے میں مقدار میں کمی لائیں
- بار بار کھانے سے بچیں اور میٹھی چیز کو لنچ کے لیے رکھیں
- شکر کی مقدار پر کنٹرول کرنے کے لیے اس کا ایک معمول بنائیں۔
- میٹھی چیزوں کو نظروں سے دور رکھیں کیونکہ بصورت دیگر لوگ اسے دیکھیں گے تو زیادہ کھائیں گے۔







