انڈیا کی آدم خور شیرنی کی ہلاکت

انڈیا کے محکمۂ جنگلی حیات کا کہنا ہے کہ انھوں نے چھ ہفتوں پر مشمتل ایک وسیع آپریشن کے بعد انسانوں کو شکار بنانے والی ایک شیرنی کو ہلاک کر دیا ہے۔

اس شیرنی کے بارے میں یہ خیال ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اس نے انڈیا کی شمالی ریاست اتراکھنڈ میں دو افراد کو ہلاک اور پانچ کو زخمی کر دیا تھا۔

یہ شیرنی اکثر اوقات زرعی علاقوں میں نظر آتی تھی جس سے وہاں کام کرنے والے کسان خوفزدہ ہو جاتے اور وہ کھیتوں میں فصل اگانے سے ڈرتے تھے۔

اتراکھنڈ کے محکمۂ جنگلی حیات کے ایک اہلکار نے بی بی سی کے راجو گوسین کو بتایا کہ انھوں نے شیرنی کو بے ہوش کرنے کی متعدد کوششوں کی ناکامی کے بعد اسے مارنے کا فیصلہ کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ شیرنی بہت زیادہ خطرناک ہو گئی تھی۔

اہلکار کے مطابق شیرنی کا پتہ لگانے کے لیے علاقے میں 50 سے زائد کیمرے نصب کیے گئے تھے اور اسے جمعرات کی صبع مارا گیا۔

خیال کیا جاتا ہے کہ انڈیا میں 1947 میں تقریباً 40 ہزار شیر تھے لیکن پہلے راجہ مہاراجاؤں کے شکار کے شوق اور پھر مشرقی ایشیائی ممالک میں دواؤں میں استعمال کے لیے شیروں کے اعضا کی بھرپور مانگ کی وجہ سے ان کی تعداد تیزی سے کم ہوتی چلی گئی۔