یورپی روبوٹ سکیاپریلی کے مریخ پر لاپتہ ہونے کا خدشہ

مریخ پر اترنے کی کوشش کرنے والی یورپی خلائی ایجنسی کی روبوٹک گاڑی کے لاپتہ ہونے کے خدشات پیدا ہو گئے ہیں۔

'سکیاپریلی' نامی تحقیقاتی روبوٹک خلائی مشن زمین سے 50 کروڑ کلومیٹر کے سفر کے بعد بدھ کو مریخ پر پہنچا تھا لیکن سرخ سیارے کی سطح پر اترنے کے مقررہ وقت سے ایک منٹ قبل اس سے ریڈیو سگنل وصول ہونا بند ہوگئے تھے۔

اس مشن کا مقصد مریخ کی سطح میں سوراخ کر کے وہاں زندگی کے آثار کا کھوج لگانا تھا۔

مصنوعی سیاروں کی مدد سے اس چھ سو کلو وزنی خلائی گاڑی کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے تاہم اس سلسلے میں تاحال کوئی کامیابی نہیں مل سکی ہے۔

ایک امریکی مصنوعی سیارے نے سکیاپریلی کو کال بھی کی تاہم اس کا کوئی جواب نہیں آیا۔

خدشہ ہے کہ یہ روبوٹک گاڑی مریخ کی سطح پر گر کر تباہ ہوگئی ہے تاہم ای ایس اے اس بارے میں تاحال کوئی اعلان کرنے سے گریزاں ہے۔

یورپی خلائی ادارے کے انجینیئر اس بات کا پتہ لگانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ سکیاپریلی سے رابطہ کیوں منقطع ہوا اور اب کیا کیا جا سکتا ہے اور اس عمل میں کئی دن لگ سکتے ہیں۔

جرمنی میں اس خلائی مشن کے انچارج پاؤلو فیری نے بدھ کی شب صحافیوں کو بتایا کہ 'ہم رات بھر ڈیٹا کا جائزہ لیں گے۔ مجھے یقین ہے کہ ہم معلوم کر لیں گے کہ کونسا عمل رکا جس کی وجہ سے رابطہ ٹوٹا۔'

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ جمعرات کو 'یہ بات معلوم ہونے کے روشن امکانات ہیں کہ آیا یہ خلائی جہاز لاپتہ ہوگیا ہے یا کہ اس سے رابطے کی بحالی کے لیے کیا کوششیں کی جا سکتی ہیں۔'

اگر اس بات کی تصدیق ہوئی کہ سکیاپریلی گم ہوگیا ہے تو یہ یورپی خلائی ادارے کے لیے سنہ 2003 میں مریخ پر بھیجے جانے والے بیگل 2 مشن کی ناکامی کے بعد دوسرا بڑا دھچکا ہوگا۔

'بیگل2' مریخ پر اتر تو گيا تھا لیکن اس کے فوراً بعد ہی اسے تکنیکی خرابی کا سامنا کرنا پڑا تھا۔