زیدی کےچہرے پر ’چوٹ کے نشان‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراق میں ایک جج نے کہا ہے کہ امریکی صدر جارج بُش کو جوتا مارنے والے صحافی کو دیکھ کر لگتا ہے کہ انہیں مارا پیٹا گیا ہے۔ صدر بُش کو جوتا مارے جانے کے مقدمے کی سماعت کرنے والے جج نے صحافی منتظر الزیدی کو دیکھ کر کہا کہ ان کے چہرے اور آنکھوں کے گرد زخم کے نشان ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ واضح نہیں کہ یہ چوٹیں انہیں حراست کے دوران لگیں یا اس وقت جب سکیورٹی اہلکاروں نے انہیں صدر بُش کو جوتا مارنے پر پکڑ کر زمین پر لٹایا تھا۔ منتظر الزیدی کے ایک بھائی نے کہا ہے کہ ان کو حراست کے دوران شدید چوٹیں آئی ہیں۔ زیدی غیر ملکی رہنما کی توہین اور ان پر حملے کی کوشش کا الزام لگ سکتا ہے۔ | اسی بارے میں ’جوتا پھینکنے والے نے معافی مانگ لی‘18 December, 2008 | آس پاس عراقی صحافی سے ناراض نہیں: بش17 December, 2008 | آس پاس جوتے کے پیچھے کا ’عام عراقی صحافی‘18 December, 2008 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||