شیریں عبادی کو’جان سے مارنے کی دھمکیاں‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ایران کی نوبل انعام یافتہ حقوقِ انسانی کی وکیل شیریں عبادی کا کہنا ہے کہ انہیں جان سے مارنے کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔ ان دھمکیوں میں وہ تحریری نوٹ بھی شامل ہیں جو تہران میں ان کے دفتر کے دروازے پر چسپاں کیے گئے اور ان میں شیریں عبادی سے کہا گیا تھا کہ وہ’زبان سنبھال کر بات کریں‘۔ ساٹھ سالہ عبادی کو ماضی میں بھی جان سے مارنے کی دھمکیاں دی جاتی رہی ہیں تاہم انہوں نے پیر کو اپنے ایک بیان میں کہا کہ’مجھے اور میرے اہلِ خانہ کو جان سے مارنے کی دھمکیوں میں تیزی آ گئی ہے‘۔ ان کے مطابق ایک دھمکی آمیز نوٹ میں انہیں مخاطب کر کے کہا گیا ہے کہ’ شیریں عبادی تماری موت قریب ہے‘۔ شیریں عبادی کو ایرانی قیادت پر ان کی کڑی تنقید کی وجہ سے بھی جانا جاتا ہے اور ان کا کہنا ہے کہ انہوں نے ان دھمکیوں کے بارے میں ایرانی پولیس کو مطلع کر دیا ہے۔ شیریں عبادی نے خبر رساں ادارے رائٹرز کو ایک انٹرویو میں یہ بھی بتایا کہ ایران میں حقوقِ انسانی کا ریکارڈ گزشتہ دو برس میں خراب رہا ہے اور نہ صرف قید کیے جانے والے افراد کی تعداد بڑھی ہے بلکہ پھانسیوں کی تعداد میں بھی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ | اسی بارے میں مساوی حقوق اور ایرانی عورت 08 March, 2007 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||