کوسوو: نیٹو افواج نے سرحد بند کردی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
شمالی کوسوو میں سربیائی باشندوں کی جانب سے دو چوکیوں پر حملے کے بعد نیٹو افواج نے شمالی کوسوو کی سرحد چوبیس گھنٹے کے لیے بند کر دی ہے۔ سینکڑوں سرب مظاہرین نے کوسوو کے شہر زارنے اور بانجا میں کسٹم اور پولیس چوکیوں کو آگ لگا دی تھی۔ ان چوکیوں پر اقوام متحدہ اور کوسوون پولیس تعینات تھی۔ بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق مظاہرین گاڑیوں اور بسوں میں جلوس کی صورت پہنچے اور ایسا لگتا تھا کہ یہ ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت دھاوا بولا گیا۔ حملے کی وجہ سے کوسوون پولیس اور اقوام متحدہ کے کسٹم حکام کو یہ چوکیاں خالی کرنا پڑیں۔ جس کے بعد نیٹو کی فوج میں شامل امریکی فوجیوں نے سربیا جانے والی شاہراہ بند کر دی جبکہ فرانسیسی فوجیوں نے مونٹی نیگرو جانے والی سڑک بند کی۔ بی بی سی کے نامہ نگار کرس تھورپ کا کہنا ہے کہ سرحد بند کرنے سے کوسوو کے سرب اور سربیائی حکومت مشتعل ہو گی۔ سرحد بند ہونے سے سربیا کے شمال میں کوسوو کے سرب متاثر ہوئے ہیں۔ ان سربوں کا کہنا ہے کہ وہ اب بھی سربیا کے باشندے ہیں۔ پریسٹینا میں کوسوو وزیر اعظم ہاشم نے کہا ہے کہ یہ واقعہ ان کی آزادی کی خوشی کو کم نہیں کرے گا جبکہ دوسری طرف سربیا کے وزیر خارجہ جیرمک نے ایک بیان میں کہا کہ کوسوو کبھی بھی خودمختار ملک نہیں بن سکتا اور ہمیشہ سربیا کا حصہ رہے گا۔انہوں نے ویانا میں کہا ’ہمارے لیے کوسوو ایک ہمارے ماضی اور مستقبل کی اہم کڑی ہے‘۔ اس سے قبل یورپی یونین کے ہاویئر سولانا عالمی برادری کے پہلے رہنماء تھے جنہوں نے کوسوو کی آزادی کے بعد وہاں کا دورہ کیا۔ اب تک صرف برطانیہ، امریکہ، فرانس، جرمنی اور اٹلی نے کوسوو کو تسلیم کیا ہے جبکہ روس نے متنبہ کیا ہے کہ کوسوو کی آزادی عالمی استحکام کے لیے خطرہ ہے جبکہ چین نے بھی تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ روس کا یہ بیان امریکی صدر جارج بش کے کوسو کو تسلیم کرنے کے بیان کے چوبیس گھنٹے بعد آیا ہے۔ دوسری طرف اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل اس سلسلے میں کسی فیصلے پر نہیں پہنچ سکی ہے۔ | اسی بارے میں کوسوو کی آزادی کی توثیق17 February, 2008 | آس پاس کوسوو میں’یومِ آزادی‘ کی تیاری 17 February, 2008 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||