1965 :جب میلکم ایکس مارے گئے | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکہ میں ’صرف سیاہ فام‘ کا نعرہ لگانے والے متنازعہ سیاہ فام رہنما میلکم ایکس کو ہلاک کر دیا گیا۔ میلکم ایکس اکیس فروری انیس سو پینسٹھ کو جب نیویارک کے علاقے ہارلم کے قریب واقع ایک آڈیٹوریم میں اپنے چار سو معتقدین سے خطاب کرنے کے لیے اٹھے تو انہیں کئی گولیوں کا نشانہ بنایا گیا۔ انتالیس سالہ میلکم ایکس کو ایک قریبی ہسپتال لے جایا گیا لیکن تھوڑی ہی دیر بعد ڈاکٹروں نے ان کی موت کی تصدیق کر دی۔ جن دو افراد نے میلکم ایکس کو گولیاں ماریں انہیں بعد میں آڈیٹوریم کے باہر ہجوم نے گھیر لیا اور انہیں بری طرح پیٹا۔ دس پولیس افسروں کو انہیں ہجوم سے چھڑانے میں کئی منٹ لگے۔ کہا جا رہا ہے کہ کہ دونوں حملہ آوروں کا تعلق سیاہ فام مسلمان گروپ ’نیشن آف اسلام‘ سے ہے۔ کافی عرصے سے کہا جا رہا تھا کہ میلکم ایکس اس گروپ کے سربراہ علیجاہ محمد کی جگہ لینے والے ہیں۔ میلکم ایکس نے اپنی غلامی کے دور کی کنیت ’لٹل‘ یا ’چھوٹا‘ سے قید کے دوران اس وقت چھٹکارا حاصل کر لیا تھا جب انہوں نے نیشن آف اسلام کی رکنیت لی تھی۔ لیکن دو سال قبل انہوں نے گروپ کے سربراہ سے علیحدگی اختیار کر لی تھی اور اپنی ایک الگ تنظیم بنانے کا اعلان کیا تھا جو ان کے بقول ’ان سیاہ فام پڑھے لکھے لوگوں کی تنظیم ہوگی جو امریکہ میں رنگ کی بنیاد پر علیحدگی کے قائل تو ہیں لیکن اسلام کو بطور مذہب قبول نہیں کر سکے۔‘ تاہم حال ہی میں مکہ کے دورے کے بعد ان کے خیالات میں تبدیلی آ گئی تھی اور سفید فام لوگوں کی جانب ان کے رویے میں نرمی آ گئی تھی۔
نیویارک پولیس کے اسسٹنٹ چیف سینفورڈ گیریلک کا کہنا ہے کہ میلکم ایکس کی موت کو دو گروہوں کی باہمی چپقلش کا شاخسانہ ہی کہا جا سکتا ہے۔’ یہ ایک پرانی لڑائی کا نتیجہ ہی لگتا ہے۔‘ گزشتہ ہفتے ہی نیویارک کے علاقے کوینز میں میلکم ایکس کے گھر پر آگ کے گولے پھینکے گئے تھے جس میں وہ اور ان کے اہل خانہ بچ گئے تھے۔ میلکم ایکس کے وکیل پرسی سٹن نے اس موقع پر کہا کہ میلکم ایکس کو معلوم تھا کہ ان کی جان کو خطرہ ہے۔’انہیں پتہ تھا کہ وہ مارے جائیں گے۔‘ پولیس کا کہنا ہے کہ وہ اس بات کی تفتیش کریں گے کہ میلکم ایکس کے کچھ ماننے والے انہیں مارنا چاہتے تھے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||