مصر: مسلم مبلغ کی رہائی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
مصر میں حکام نے ایک ایسے مسلم مبلغ کو رہا کر دیا ہے جسے مبینہ طور پر سی آئی اے کے ایجنٹوں نے سنہ 2003 میں اٹلی سے اغوا کر کے مصری حکام کے حوالے کیا تھا۔ حسن مصطفٰی اسامہ نصر المعروف ابو عمر نامی اس مبلغ کے وکیل منتصر الزیات نے اس امر کی تصدیق کی ہے کہ ان کے مؤکل کو رہا کر دیا گیا ہے اور وہ اب اپنے خاندان کے ہمراہ ہیں۔ رہائی کے بعد ابو عمر کا کہنا ہے کہ انہیں مصری حکام نے دورانِ قید تشدد کا نشانہ بھی بنایا۔ ان کا کہنا ہے کہ انہیں بجلی کے جھٹکے دیے گئے، مارا پیٹا گیا اور جنسی زیادتی کی دھمکیاں بھی دی گئیں۔ ابو عمر پر ابتداء میں ایک غیر قانونی تنظیم کا رکن ہونے کا الزام لگایا گیا تھا تاہم بعد ازاں یہ الزام واپس لے لیا گیا۔ انہیں سنہ 2004 میں بھی کچھ دیر کے لیے رہائی نصیب ہوئی تاہم پھر انہیں ایمرجنسی قوانین کے تحت دوبارہ پکڑ لیا گیا۔ ابو عمر کی گرفتاری کے معاملے کو مشتبہ افراد کی گرفتاری اور ان کی تفتیش کے لیے دوسرے ملک منتقلی کے حوالے سے ایک مثال کے طور پر دیکھا گیا تھا۔ امریکی حکام مشتبہ دہشتگردوں کی دوسرے ملک منتقل کو تسلیم کر چکے ہیں تاہم وہ ان پر تشدد کرنے یا انہیں کسی ایسے ملک کے حوالے کرنے سے انکاری ہیں جہاں ان افراد پر تشدد ہو سکتا ہو۔ | اسی بارے میں اٹلی: انٹیلجنس افسر گرفتار05 July, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||