مراکش: صحافیوں پر مقدمہ شروع | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
مراکش کی ایک عدالت میں ایک ایسے مقدمے کی سماعت شروع ہوگئی ہے جو پہلے ہی عالمی میڈیا کی توجہ کا مرکز بن چکا ہے۔ یہ مقدمہ مقامی جریدے نیشان کے ایڈیٹر اور ایک رپورٹر پر قائم کیا گیا ہے اور ان پر الزام ہے کہ انہوں نےمذہبی لطیفوں کے بارے میں ایک مضمون شائع کر کے لوگوں کی اخلاقیات پر برا اثر ڈالا۔ مراکشی انتظامیہ نے فوری طور پر میگزین کو بند کر دیا ہے اور اخبارات کے سٹالوں سے بھی میگزین کی تمام کاپیاں ہٹوا دی ہیں۔ متنازعہ مضمون ان مقبولِ عام لطیفوں کے بارے میں تھا جن میں مذہب، جنس اور سیاست کا ذکر تھا۔ دونوں ملزمان کو الزام ثابت ہونے کی صورت میں پانچ سال قیداور بھاری جرمانے کا سامنا ہوگا۔ دونوں صحافی جنہیں قتل کی دھمکیاں بھی ملی ہیں کہتے ہیں کہ ان کا مقصد مذہب کا مذاق اڑانا نہیں تھا بلکہ وہ چاہتے تھے کہ یہ دیکھا جائے کہ اس قسم کے لطیفے مراکش کے معاشرے پر کیا روشنی ڈالتے ہیں۔ دونوں صحافیوں نے سرِ عام معافی بھی مانگی ہے۔ ’رپورٹرز ود آؤٹ فرنٹیرز‘ جیسی بین الاقوامی تنظیمیں ان صحافیوں کی حمایت کر رہی ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ یہ مقدمہ آزادی صحافت پر ضرب لگانے کے مترادف ہے۔ تاہم مراکشی حکومت کا مؤقف اس کے برعکس ہے اور اس کا کہنا ہے کہ مذہب پر حملہ ان سنگین جرائم میں سے ایک ہے جو ایک صحافی کر سکتا ہے۔ مراکش کے سابق بادشاہ کے انتقال کے بعد سے ملک میں جدیدیت کی تحریک شروع ہوئی تھی اور ذرائع ابلاغ میں اصلاحات بھی اسی سلسلے کا ایک حصہ ہیں۔ تاہم اب خیال کیا جا رہا ہے کہ یہ مقدمہ مراکش کو اس دور میں دھکیل دے گا جب کسی بھی فرد کو گفتگو میں بہت محتاط انداز اختیار کرنا پڑتا تھا۔ | اسی بارے میں مراکش: مساجد میں خواتین مبلغ تعینات04 May, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||