’گیارہ ستمبر حملوں کا حامی ہوں‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکہ میں گیارہ ستمبر کے حملوں کے سلسلے میں مجرم قرار پانے والے زکریا موسوی نے امریکی عدالت میں بیان دیتے ہوئے گیارہ ستمبر کے حملوں کو جائز قرار دیتےہوئے کہا ہے کہ امریکہ سانپ کا سر ہے اور اسرائیل کو تباہ کرنے کے لیے امریکہ کو تباہ کرنا ضروری ہے۔ زکریا موسوی کے خلاف عدالتی کارروائی صرف یہ فیصلہ کرنے کے لی کی جا رہی ہے کہ کیا ان کو موت کی سزا دی جائے یا عمر قید کی۔ موسوی نے اپنی گواہی میں کہا کہ امریکہ نے پوری دنیا کو عذاب میں مبتلا کررکھا ہے۔ زکریا موسوی سے جب پوچھا گیا کہ کیا وہ اب بھی امریکیوں کو مارنے کے لیے تیار ہیں تو ان کا جواب تھا:’ کسی بھی وقت کسی بھی جگہ‘۔ زکریا موسوی پر، جو مراکش نژاد فرانسیسی ہیں، گیارہ ستمبر کے حملوں کی منصوبہ بندی کا الزام ہے۔گیارہ ستمبر کے وقت موسوی امریکی جیل میں تھے۔ استغاثہ کا کہنا ہے زکریا موسوی نے تفتیش کے دوران مسلسل جھوٹ بولا اور القاعدہ کے منصوبوں کے بارے میں اگر کچھ بتا دیتا تو کئی حملوں سے بچنا ممکمن ہو سکتا تھا۔ حکومت کی جانب سے مہیا کیے جانے والے وکیل پر عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے زکریا موسوی نے کہا کہ وکیلوں کے اپنے مقاصد ہیں اور وہ ان کے دفاع میں مجرمانہ کوتائی کے مرتکب ہو رہے ہیں۔ موسوی نے کہا کہ وہ چاہتے تھے کہ ان کا مقدمہ واشنگٹن کی بجائے کسی اور جگہ چلایا لیکن ایسا نہیں کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے مسلمان وکیل کی سہولت مہیا مانگی تھی جو ان کو مہیا نہیں کی گئی ہے۔ زکریا موسوی کے وکلاء عدالت کو یہ باور کرانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ ان کے موکل کی ذہنی کیفیت نہیں ہے اور ان کو موت کی سزا سے نہ دی جائے۔ زکریا موسوی نے اپنے دفاع میں قرآن سے حوالے دیتے ہوئے کہا کہ مسلمانوں پر لازم ہے کہ اللہ کی حاکمیت کے لڑیں۔ انہو ں نے کہا مسلمانوں کو سپر پاور ہونا چاہیے اور ان کا مرتبہ غیر مسلموں سے اونچا ہونا چاہیے۔ | اسی بارے میں ’حملے کا حکم اسامہ نے دیا تھا‘27 March, 2006 | آس پاس موساوی کیس: سماعت شروع 07 March, 2006 | آس پاس ’موساوی نے 11/9 کا منصوبہ چھپایا‘08 March, 2006 | آس پاس ’ہائی جیک پلاٹ سے خبردار کیا تھا‘21 March, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||