اسرائیل کا ادائیگی سےانکار | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اسرائیلی سرکاری افسران نے کہا ہے کہ حماس کی جیت کے بعد اسرائیل فلسطینی انتظامیہ کو ٹیکس اور کسٹم ڈیوٹی کی مد میں جمع کی جانے والے رقم کی ترسیل روک سکتا ہے۔ واضع رہے کہ کئی مقامات پر فلسطینی انتظامیہ کے لیے ٹیکس اور کسٹم ڈیوٹی وصول کرنے کی ذمہ داری اسرائیل نے اپنے ہاتھ میں لی ہوئی ہے۔ وزیراعظم کے دفتر کے افسران نے بی بی سی کو بتایا کہ ٹیکس اور کسٹم ڈیوٹی کا معاملہ زیر غور ہے لیکن اس بات کے امکانات کم ہیں کہ رقم کی اگلی قسط فلسطینی انتظامیہ کو دی جائے گی۔ طےشدہ فارمولے کے تحت مذکورہ قسط بدھ کو فلسطینی انتظامیہ کے سپرد کی جانی چاہیے۔ واضح رہے کہ اسرائیل حماس کو ایک دہشگرد تنظیم کہتا ہے اور اس کے ساتھ بات چیت کے لیے تیار نہیں ہے۔ دوسری طرف گزشتہ ہفتے کے فلسطینی انتخابات میں ناکام ہونے والی جماعت الفتح کے حامیوں کی طرف سے غزہ میں احتجاج کا سلسلہ جاری ہے۔ | اسی بارے میں حماس کو حکومت بنانے کی دعوت27 January, 2006 | آس پاس بلیک میل نہیں ہوں گے: حماس28 January, 2006 | صفحۂ اول حماس کی فلسطینی فوج کی تجویز29 January, 2006 | صفحۂ اول | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||