اسرائیل ویٹیکن تعلقات میں تناؤ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اسرائیل اور ویٹیکن کے درمیان تلخ بیانات کے تبادلے سے یہودی ریاست اور عیسائیوں کے کیتھولک فرقے کے کلیسیا کے نازک سفارتی تعلقات کو خطرہ لاحق ہو گیا ہے۔ اسرائیل اور ویٹیکن کے درمیان یہ کشدیگی کچھ ان کہے الفاظ کی وجہ سے پیدا ہوئی ہے۔ کیتھولک فرقے کے پوپ بینیڈک نِے دہشت گردی سے متاثرہ ملکوں کے بارے میں ایک بیان دیتے ہوئے اسرائیل کا نام نہیں لیا تھا۔ اسرائیل نے یروشلم میں ویٹیکن کے سفیر کو طلب کرکے پوپ کے بیان پر احتجاج کیا تھا۔ اس کے ردعمل میں ویٹیکن نے ایک غیر معمولی تلخ بیان جاری کیا تھا جس میں اسرائیل پر بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزیاں کرنے کا الزام لگایا تھا اور کہا تھا کہ ویٹیکن کو اپنی رائے کا اظہار کرنے کی آزادی حاصل ہے۔ اس بیان میں کہا گیا تھا کہ اسرائیل کے خلاف ہونے والے ہر حملے کی مذمت کرنا ممکن نہیں ہوتا۔ اس بیان میں مزید کہا گیا کہ حملوں کے خلاف اسرائیل کا ردعمل اکثر بین الاقوامی قوانین سے مطابقت نہیں رکھتا۔ اسرائیل کی وزارتِ خارجہ نے کہا تھا کہ پوپ کا بیان اسرائیل کے خلاف ہونے والے حملوں کو جائز قرار دینے کے مترادف ہے۔ اسرائیل نے ان بیانات پر اپنی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس سفارتی کشیدگی سے ظاہر ہوتا ہے کہ ویٹیکن کی اسرائیل کے بارے میں پالیسی تبدیل ہو رہی ہے اور اس سے دنوں کے درمیان بہتر ہوتے ہوئے تعلقات مثاتر ہو سکتے ہیں۔ ویٹیکن کے سفارت کاروں اس کشیدگی کو دبانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ روم میں پاپائے اعظم کےعرب اور اسلامک سٹڈی کے انسٹی ٹیوٹ کے ڈائریکٹر نے کہا کہ ان کا خیال ہے کہ پوپ نے جان بوجھ کر اسرائیل کا نام اپنے بیان سے حذف نہیں کیا۔ انہوں نے کہا کہ اس بیان سے کوئی تنازعہ کوہوا دینا غلط ہو گا۔ اسرائیل اور ویٹیکن میں انیس سو چورانے میں سفارتی تعلقات قائم ہوئے تھے جب اسرائیل نے اوسلو کے معاہدے پر دستخط کیے تھے۔ انیس سو سڑسٹھ میں حضرت عیسٰی کی جائے پیدائش بیت اللحم پر بی بی سی کے سفارتی نامہ نگار کا کہنا ہے کہ ویٹیکن اس اسرائیل اور فلسطین کے مسئلے کے بارے میں نہایت محتاط رویہ رکھتاہے۔ ویٹیکن جب اسرائیل کے خلاف حملوں کی مذمت کرتا ہے وہ فلسطینوں کو بھی بے گھر لوگ کہتا ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||