برطانیہ: نوجوان تشدد سے ہلاک | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ایک اٹھارہ سالہ نوجوان کومرسی سائیڈ کے علاقے ہیوٹن میں جمعہ کی رات کلہاڑی سے حملہ کر کے ہلاک کردیا گیا ہے۔ نوجوان طالبعلم انتھونی واکر کو قریبی ہسپتال لے جایا گیا جہاں اس نے، زخموں کی تاب نہ لا کر، دم توڑ دیا۔ نوجوان ایک دوست لڑکی اور ایک رشتہ دار کے ساتھ سینٹ جانس روڈ کے بس سٹاپ پر بس کے انتظار میں کھڑا تھا جب ایک گروہ نے ان پر طنز کرنا شروع کر دیا۔ جب وہ تینوں وہاں سے ہٹ کر ایک قریبی پارک میں چلے گئے تو گروہ کے ارکان نے وہاں پہنچ کر ان پر حملہ کر دیا۔ اس سیاہ فام لڑکے کی دوست لڑکی اور رشتہ دار مدد کے لیے دوڑے لیکن جب وہ واپس اس زخمی لڑکے کے پاس پہنچے تو انہوں نےاسےفرش پر پڑے دیکھا۔ اس کے سر پر گہرے زخم آئے تھے۔ زخمی لڑکے کو وسٹن ہسپتال لے جایا گیا۔ بعد میں اسے والٹن کے دماغی سینٹر منتقل کر دیا گیا جہاں وہ زخموں کی تاب نہ لا کر ہلاک ہو گیا۔ مرسی سائیڈ پولیس کے سربراہ برنارڈ لاسن کا کہنا ہے کہ یہ ایک بلا اشتعال نسلی منافرت کی وجہ سے کیا جانے والا حملہ تھا جس میں ایک سیاہ فام نوجوان کو ہلاک کر دیا گیا۔ ’یہ ایک قابل نفرت فعل تھا اور ہمارا عزم ہے کہ ہم ہر صورت میں ذمہ دار افراد کو گرفتار کریں گے۔‘ پولیس کے مطابق انتھونی واکر ایک اٹھارہ سالہ عیسائی نوجوان تھا جو اے لیول میں پڑھ رہا تھا۔ اس موقع پر موجود لوگوں اور آس پاس کے گھروں سے اس واقعے کے حوالے سے پوچھ گچھ کا سلسلہ شروع کر دیا گیا ہے۔ مسٹر لاسن نےاس وقت موقع پر موجود لوگوں سے اس سلسلے میں رابطہ کرنے کو کہا ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||