عراق، حراست میں نو افراد ہلاک | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراق میں پولیس ذرائع نے بتایا ہے کہ کم سے کم نو مزدور ایک کنٹینر میں نظر بند ہونے کے بعد دم گھٹنے سے مر گئے ہیں۔ ہلاک ہونے والے یہ نو آدمی اُن بارہ افراد میں شامل تھے جنہیں بغداد کے ایک ہسپتال سے گرفتار کیا گیا تھا جہاں وہ اپنے ایک زخمی ساتھی کو لے کر پہنچے تھے۔ ان کایہ ساتھی پولیس اور مذاحمت کاروں کی جھڑپ میں پھنس گیا تھا۔ پولیس کے کمانڈوز نے ان افراد کو حراست میں لے کر ایک لوہے کے کنٹینر میں بند کر دیا۔ یہ لوگ تپتی ہوئی گرمی میں اس کنٹینر کے اندر چودہ گھنٹے رہے ۔ عراق میں سنی عالموں کی تنظیم نے ان ہلاکتوں کی سخت مذمت کی ہے۔ عراق کی پولیس پر تشدد اور بد سلوکی کے بہت الزامات لگائے جا رہے ہیں۔ پولیس میں اکثریت شعیہ مسلمانوں کی ہے اور اس لیے ایسی صورتحال میں زیادہ کشیدگی پیدا ہوتی ہے۔ ہسپتال کے ایک ڈاکٹر نے بی بی سی کو بتایا کہ کنٹینر میں سے زندہ بچنے والے ایک شخص کا کہنا تھا کہ پولیس کمانڈوز نے اس کو بجلی کے جھٹکے لگائے تھے۔ زندہ بچنے والے افراد کو پولیس کمانڈوز نے صحافیوں سے بات نہیں کرنے دی۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||