اطالوی کی ہلاکت، رمزفیلڈ کی معذرت | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی وزیر دفاع ڈونلڈ رمز فیلڈ نے عراق میں اٹلی کے خفیہ ادارے کے ایک اہلکار کی امریکی فوج کی فائرنگ میں ہلاکت پر معذرت کا اظہار کیا ہے۔ اٹلی کے خفیہ ادارے کے اہلکار کالی پاری عراق میں اس وقت امریکی فوج کی فائرنگ کا نشانہ بن گئے تھے جب وہ عراق میں اغواء ہونے والی اطالوی اخبارنویس خاتون کو رہائی دلوا کر امریکی فوجی چوکی کی طرف جارہے تھے۔ امریکی حکومت نے اس واقع کی تحقیقات کرانے کا وعدہ کیا ہے لیکن روم سے بی بی سی کے نامہ نگار نے اطلاع دی ہے کہ رہا ہونے والی بائیں بازو کی صحافی گولیانہ سگرینہ نے امریکی فوج کے بیان کی تردید کی ہے۔ انہوں نے اس بات کی تردید کی ہے کہ گاڑی بڑی رفتار سے امریکی چوکی کی طرف بڑھ رہی تھی یا گاڑی پر فائرنگ کرنے سے پہلے امریکی فوج نے خبردار کرنے کے لیے ہوا میں کوئی فائر کیا تھا۔ بی بی سی کے نامہ نگار نے کہا ہے کہ اٹلی میں پہلے ہی عراق میں اطالوی فوج کی تعیناتی کے خلاف شدید جذبات پائے جاتے ہیں اور اس تازہ واقعہ سے ان جذبات میں مزید شدت آنے کی توقع ہے۔ کالی پاری کی آخری رسومات سوموار کے روز ادا کی جائیں گی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||