برطانیہ:انسداد دہشتگردی عدالتیں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
برطانیہ کی حکمران جماعت لیبر پارٹی نے کہا ہے کہ اگر وہ اگلے سال انتخاب جیتے میں کامیاب ہو گئی تو وہ برطانیہ میں انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالتیں قائم کرئے گی۔ برطانیہ وزیر داخلہ ڈیوڈ بلنکٹ نے کہا ہے کہ اگر لیبر پارٹی انتخابات میں کامیاب ہو گئی تو وہ ایسے قانون بنائے گی جن کے تحت خفیہ طور پر ٹیلیفون ہونے والی گفتگو کی ٹیپ ریکارڈنگ کو عدالت میں بطور شہادت پیش کیا جا سکے گا۔ انہوں نے کہا کہ برطانیہ میں انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالتیں قائم کی جائیں گی جوکسی بھی شخص کو دہشت گردوں کے ساتھ تعلق کے شک کی بنیاد پر ان کی حراست کے احکامات جاری کر سکیں گیں۔ انہوں نے کہا کہ ایسا شخص جس نے دہشت گردی کی نہ ہو لیکن اس پر ایسا کرنے کا شائبہ بھی اس حراست کے لیے کافی ہو گا۔ دہشت گردی سے نبٹنے کے لیے برطانیہ پہلے بھی ایسے قانون بنا چکا ہے جن کے تحت کسی بھی شخص کو دہشت گردی میں ملوث ہونے کے شک کی بنیاد غیر معینہ مدت تک حراست میں رکھا جا سکتا ہے۔ اس قانون کے تحت کئی غیر ملکی باشندوں کو دہشت گردی میں ملوث ہونے کے شبے میں حراست میں رکھا ہوا اور ملک کی اعلی عدالتیں بھی ان کی حراست کو جائز قرار دے چکی ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||