گراؤنڈ زیرو اور الیکشن | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
مین ہیٹن کی بڑی بڑی بلڈنگوں کے جنگل کے بیچوں بیچ چلتے چلتے اچانک سے ایک کھلا میدان اس منظر کی یاد تازہ کردیتا ہے جو شائد دنیا کے ہر شخص کے ذہن میں نقش ہوچکا ہے۔ یہ گراؤنڈ زیرو ہے۔ لوہے اور کنکریٹ کے بنے نیویارک جیسے شہر کے عین درمیان ابھی تک ملبے سے بھرا ایک چھوٹا سا میدان۔ یہاں آنے والا ہر شخص ادھر ادھر کی عمارتوں کو غور سے دیکھ دیکھ کر یہی اندازے لگاتا دکھائی دیتا ہے کہ جب پہلا جہاز اس بلڈنگ سے ٹکرایا ہوگا تو یہاں کیسی تباہی ہوئی ہوگی۔ جو تصویریں ٹی وی پر دیکھی تھیں کیا وہ اس گلی میں اتری گئی ہونگی۔ لیکن امریکہ کے صدارتی الیکشن میں جاری
لیکن اسی ’نو وار’ کے بینر کے پس منظر میں ایشیائی شکلوں کے ایسے بھی کئی لوگ ادھر ادُھر پھرتے نظر آتے ہیں جنہوں نے گیارہ ستمبر کے حملوں اور ورلڈ ٹریڈ سینٹر کے سانحے کو ایک انڈسٹری کی شکل دے دی ہے۔ ہاتھ میں اس پورے سانحے کی لمحہ بہ لمحہ تصویری البم اٹھائے یہ لوگ ہر آنے والے کو یہ آفر کرتے ہیں کہ صرف دو ڈالر میں وہ پوری البم دیکھ سکتے ہیں۔ خوابوں کی تعبیر سچ کرنے والے ملک امریکہ میں ایک نئی صنعت کی دریافت، ورلڈ ٹریڈ سینٹر کے سایے میں ’ٹریجیڈی ٹورزم’۔ کچھ جاپانی سیاحوں کو اس البم کے ساتھ پوز کر کے تصویریں اترواتے دیکھ کر میں جب ساتھ کی ایک اور سٹریٹ
میں پہنچا تو ایک سیاہ فام شخص ایک چھوٹے سے سٹال پر جان کیری کی حمایت میں اور بش کے خلاف دو دو ڈالر کے بیج یا بلے بیچ رہا تھا۔ اس نے اپنے ایک گاہک سے پوچھا کیا تم بش کے حامی ہو تو جواب میں اس شخص نے چڑ کر کہا ’ہیل نو، میری توہین تو نہ کرو۔’ ابھی تک الیکشن کی کوریج میں جتنا بھی امریکہ گھوما اس چھوٹے سے سٹال سے زیادہ سڑکوں پر اور کچھ بھی نہیں دکھا، پاکستان سے تعلق رکھنے والے کسی بھی شخص کے لئے یہ عجیب ہی تجربہ ہے۔ نہ کوئی پوسٹر، نہ جھنڈے لہراتی گاڑیاں، اور نہ ٹریفک جام جلسے، یہ کیسا الیکشن ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||