عراق میں اطالوی صحافی کا ’قتل‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اطالوی حکومت کا کہنا ہے کہ وہ عراق میں اغواکاروں کے ہاتھوں ایک اطالوی صحافی کے قتل کی خبر کی تصدیق کررہی ہے۔ عربی ٹیلی ویژن الجزیرہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ اسے ایک وڈیو ٹیپ موصول ہوئی ہے جس میں اطالوی صحافی اینزو بالودنی کا قتل دکھایا گیا ہے۔ الجزیرہ کے مطابق خود کو اسلامی آرمی سے منسلک بتانے والے اغواکاروں نے کہا کہ انہوں یہ قتل اس لئے کیا ہے کیونکہ اٹلی نے عراق سے اڑتالیس گھنٹوں کے اندر فوج واپس بلانے کے ان کے مطالبے کو نہیں مانا۔ اطالوی وزیراعظم سِلویو برلوسکونی نے اغواکاروں کے ہاتھوں اینزو بالدونی کے قتل کی مزمت کرتے ہوئے اسے ’بربریت‘ قرار دیا ہے۔ اطالوی صحافی انیس اگست کو عراق میں لاپتہ ہوگئے تھے۔ ان کے عراقی ڈرائیور کی لاش نجف کے قریب ملی تھی۔ اغواکاروں نے منگل کو الجزیرہ کے ذریعے ایک اپیل جاری کی تھی جس میں اڑتالیس گھنٹوں کے اندر اطالوی فوج کی عراق سے واپسی کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ عراق میں اٹلی کے تین ہزار فوجی تعینات ہیں۔ اٹلی کی حکومت نے کہا تھا کہ عراق سے فوج واپس بلانے کا کوئی ارادہ نہیں ہے لیکن صحافی کی رہائی کے لئے پوری کوشش کی جائے گی۔ جمعرات کو جو وڈیو ٹیپ الجزیرہ پر نشر کی گئی ہے اس میں صحافی بالدونی کو بولتے ہوئے دکھایا گیا لیکن ان کی آواز نہیں سنی جاسکتی تھی۔ الجزیرہ نے کہا ہے کہ اس کے پاس وڈیو ٹیپ کا وہ حصہ بھی ہے جس میں ان کی لاش دکھائی گئی ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||