میلوشووچ مقدمہ ملتوی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہالینڈ کے شہر ہیگ کی عالمی عدالت کے ججوں نے یوگوسلاویا کے سابق صدر سلوبودان میلوشووچ کی خراب صحت کو مد نظر رکھتے ہوئے، ان کے خلاف چل رہا مقدمہ ملتوی کر دیا ہے۔ پیر کو میلوشووچ اپنے دفاع میں دلائل پیش کرنے والے تھے۔ مقدمہ ملتوی کرنے سے پہلے وکیلوں نے اس بات پر غور کیا کہ میلوشووچ کے ڈاکٹروں کے مطابق ان کے خون کا دباؤ بہت بڑھ گیا ہے اور انہیں آرام کی سخت ضرورت ہے۔ میلوشووچ پر قتل عام اور جنگی جرائم کے الزامات ہیں۔ انہوں نے اس بات کی مذمت کی ہے کہ انہیں عدالت آنے پر مجبور کیا جا رہا تھا۔ ججوں کا کہنا تھا کہ میلوشووچ کی بگڑتی صحت کی وجہ سے مقدمے کا نئے سرے سے جائزہ لینا پڑے گا۔ میلوشووچ خود پر لگے قتل عام، انسانیت کے خلاف جرائم اور جنگی جرائم کے الزامات کےخلاف صفائی پیش کرنے والے تھے۔ ان الزامات میں سرے برنیتسا میں 1995 میں ہونے والا لگ بھگ 7000 لوگوں کا قتل عام بھی شامل ہے۔ مقدمے کے جج پیٹرک روبنسن نے کہا ہے کہ وہ پیر یا منگل کو مقدمے کو آگے لیجانے کے راستے پر فیصلہ لیں گے۔ مقدمہ ملتوی کرنے سے پہلے انہوں نے کہا کہ عدالت میں سبھی اس بات سے متفق ہیں کہ میلوشووچ کی بگڑتی ہوئی صحت کو دیکھتے ہوئے کارروائی کو بدلنا ضروری ہو گیا ہے۔ آزاد وکیل سٹیون کے کا کہنا ہے کہ اب یہ بات صاف ہو گئی ہے کہ میلوشووچ کی صحت بگڑتی جا رہی ہے اور ان کا عدالت میں آنا مشکل ہے۔ مسٹر میلوشووچ کے مخالف وکیلوں کا کہنا ہے کہ ان کے لیے ایک وکیل مقرر کر لینا چاہئے، مگر میلوشووچ اس کے سخت خلاف ہیں۔ بی بی سی کے نامہ نگار کرس مورس کا کہنا ہے کہ اس مقدمے میں ہونے والا کوئی بھی فیصلہ اس کے بعد سابق سربراہوں کے خلاف ہونے والے مقدموں کے لیے بہت اہم ثابت ہوگا۔ میلوشووچ پچھلے دو سال سے عدالت میں اپنا موقف پیش کرنے کا انتظار کر رہے ہیں۔ تجزیہ نگاروں کا خیال تھا کہ وہ برطانوی وزیر اعظم ٹونی بلیئر اور سابق امریکی صدر کلنٹن کو گواہی دینے کے لیے بلائیں گے۔ مقدمہ سن رہے تین ججوں کے پینل کے سربراہ جج پیٹرک روبنسن ہیں۔ اس سے پہلے پینل کی صدارت جج رچارڑ مے کر رہے تھے۔ انہوں نے بگڑتی ہوئی صحت کی وجہ سے مئی میں عدالت چھوڑ دی تھی۔ جمعہ رات کو جج مے کا انتقال ہو گیا۔ میلوشووچ کے گواہوں کی تعداد لگ بھگ 1600 ہے، ان کے خلاف پیش کئے گئے گواہوں سے تقریباً پانچ گنا زیادہ۔ ان گواہوں میں بل کلنٹن اور ٹونی بلیئر کے علاوہ سابق امریکی وزیر خارجہ میڈلین البرائٹ اور سابق برطانوی وزیر خارجہ روبن کک بھی شامل ہیں۔ 62 سالہ مسٹر میلوشووچ نے کئی بار ہیگ عالمی عدالت کی حیثیت پر سوال اٹھائے ہیں۔ انہیں اپنا موقف پیش کرنے کے لیے 150 دن دیے جائیں گے۔ خیال کیا جاتا ہے کہ وہ دعویٰ کریں گے کہ 1999 میں کوسوومیں ہونے والی کارروائی انہوں نے صوبے کے اقلیتی سربوں کو بچانے کے لیے کی تھی۔ وہ شاید اس بات پر بھی زور دیں گے کہ ان کا ان سرب فوجیوں کے ساتھ کوئی تعلق نہیں تھا جنہوں نے کروایشیا اور بوسنیا میں قتل عام کیا تھا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||