حمبلی کے بھائی کے مقدمہ کا آغاز | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
شدت پسند اسلامی گروہ الجماعۃ الاسلاميہ (جے آئی) کےسینیئر مشتبہ رہنما حمبلی کے بھائی پر دہشت گرد حملوں میں حمنبلی کی معاونت کرنے کے الزام میں مقدمے کی کارروائی شروع ہو گئی ہے۔ چھبیس سالہ روزمان جوناوان پر الزام ہے کہ انہوں نے دہشت گرد حملوں کے لیے فنڈز کی تقسیم میں اپنے بھائی کی مدد کی تھی۔ مقدمے سے پہلے اخبار نویسوں سے باتیں کرتے ہوئے جوناوان نے الزامات کی تردید کی اور کہا کہ وہ حالیہ بم حملے کرنے والوں سے اتفاق نہیں کرتے۔ انہوں نے اس بات کی تردید کی کہ ان کو حمبلی نے جکارتہ میں میریٹ ہوٹل بم حملے کے لیے 80,000 ڈالر دیے تھے تاکہ وہ انہیں دوسرے لوگوں تک پہنچا دیں۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے صرف حمبلی کے دوست سے پوچھا تھا کہ انہیں پیسے ملے ہیں کہ نہیں۔ انہوں نے کہا کہ ’مجھے نہیں معلوم کہ کتنے پیسے تھے۔ وہ میرا بھائی ہے اور یقیناً میں اس کی مدد کرتا ہوں‘۔ جوناوان اور ان کے ساتھ چار افراد کو 2003 میں پاکستان میں دوران تعلیم گرفتار کر کے انڈونیشیا کے حوالے کر دیا گیا تھا۔ جوناوان نے صحافیوں کو بتایا کہ ان کا جہاد کے بارے میں محتلف نظریہ ہے۔ انہوں نے کہا ’میں انڈونیشیا میں ہونے والے بم حملوں سے اتفاق نہیں کرتا‘۔ جے آئی پر الزام ہے کہ اس نے انڈونیشیا میں کئی حملے کیے ہیں جس میں اکتوبر 2002 میں بالی میں کیا جانے والا حملہ بھی شامل ہے جس میں 202 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||