دہشت گردی کے الزام میں مقدمہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
دہشت گردی کی سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے الزام میں پاکستان سے نکالے جانے والے انڈونیشیا کے چار طالب علموں پر مقدمہ چلانے کے لیے جکارتہ میں حکام نے قانونی تیاریاں مکمل کر لی گی ہیں۔ انڈونیشیا کے دارالحکومت جکارتہ سے شائع ہونے والے ایک اخبار نے اطلاع دی ہے کہ ان چار مبینہ دہشت گردوں پر مقدمہ چلانے کے لیے پولیس نے متعلقہ حکام کو تمام دستاویزات مہیا کر دی ہیں۔ ان دستاویزات میں ان چار ملزماں پر فرد جرم عائد کرنے کے لیے ثبوت بھی مہیا کر دئے گئے ہیں۔ پاکستان نے گزشتہ سال دسمبر میں رشمان گونوان، محمد سیف الدین، الہام سوفیندی اور فرقون عبداللہ کو دہشت گردوں کی مالی معاونت کرنے اور ان کی تربیت کرنے کے الزام میں ملک سے نکال دیا تھا۔ انڈونشیاء کے حکام کے مطابق ان چاروں پر انسداد دہشت گردی کے قوانین کے تحت مقدمہ چلایا جائے گا۔ رشمان گونوان نے پاکستان میں تفتیش کے دوران اس بات کا اعتراف کیا تھا کہ اس نے اپنے بھائی حمبلی کو پچاس ہزار امریکی ڈالر کی مالیت کے مواصلات میں استعمال آنے والے آلات ارسال کئے تھے۔ حمبلی اگست دو ہزار تین سے امریکی حکومت کی قید میں ہے۔ حمبلی کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ جنوب مشرقی ایشیا میں انتہا پسند تنظیم جامعہ اسلامیہ کے سربراہ ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||