BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 22 April, 2004, 05:36 GMT 10:36 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
دہشت گردی کے الزام میں مقدمہ
News image
دہشت گردی کی سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے الزام میں پاکستان سے نکالے جانے والے انڈونیشیا کے چار طالب علموں پر مقدمہ چلانے کے لیے جکارتہ میں حکام نے قانونی تیاریاں مکمل کر لی گی ہیں۔

انڈونیشیا کے دارالحکومت جکارتہ سے شائع ہونے والے ایک اخبار نے اطلاع دی ہے کہ ان چار مبینہ دہشت گردوں پر مقدمہ چلانے کے لیے پولیس نے متعلقہ حکام کو تمام دستاویزات مہیا کر دی ہیں۔

ان دستاویزات میں ان چار ملزماں پر فرد جرم عائد کرنے کے لیے ثبوت بھی مہیا کر دئے گئے ہیں۔

پاکستان نے گزشتہ سال دسمبر میں رشمان گونوان، محمد سیف الدین، الہام سوفیندی اور فرقون عبداللہ کو دہشت گردوں کی مالی معاونت کرنے اور ان کی تربیت کرنے کے الزام میں ملک سے نکال دیا تھا۔

انڈونشیاء کے حکام کے مطابق ان چاروں پر انسداد دہشت گردی کے قوانین کے تحت مقدمہ چلایا جائے گا۔

رشمان گونوان نے پاکستان میں تفتیش کے دوران اس بات کا اعتراف کیا تھا کہ اس نے اپنے بھائی حمبلی کو پچاس ہزار امریکی ڈالر کی مالیت کے مواصلات میں استعمال آنے والے آلات ارسال کئے تھے۔ حمبلی اگست دو ہزار تین سے امریکی حکومت کی قید میں ہے۔

حمبلی کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ جنوب مشرقی ایشیا میں انتہا پسند تنظیم جامعہ اسلامیہ کے سربراہ ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد