عراق میں نیٹو کااہم کردار مسترد | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
فرانس کے صدر ژاک شراک نے امریکہ کی طرف سے عراق میں نیٹو کے کردار کو بڑھانے کی تجویز کو مسترد کردیا ہے۔ اس سے پہلے امریکی صدر بش نے ریاست جورجیا میں جاری جی ایٹ سربراہ اجلاس کے موقع پر عراق میں استحکام قائم کرنے کے لئے نیٹو کے اہم کردار پر زور دیا تھا اور کہا تھا کہ انہیں یقین ہے کہ نیٹو اس سلسلے میں ایک کلیدی رول ادا کرنے کے لئے تیار ہے۔ تاہم انہوں نے اس بارے میں کوئی تفصیلات فراہم نہیں کیں تھیں۔ لیکن فرانس کے صدر ژاک شراک نے یہ کہہ کر اس تجویز کو مسترد کردیا ہے کہ یہ نیٹو کا مشن نہیں ہے کہ وہ عراق میں مداخلت کرے۔ انہوں نے کہا کہ عراق میں نیٹو صرف اس صورت میں مداخلت کر سکتا ہے جب خود عراق کی حکومت اسے ایسا کرنے کے لئے درخواست کرے۔ ’میں اس معاملے میں بہت سخت تحفظات رکھتا ہوں۔‘ جی ایٹ کے سربراہ اجلاس میں مشرق وسطیٰ میں جمہوریت کے قیام کے لئے صدر بش کے مجوزہ منصوبے پر بھی بات چیت ہونا ہے۔ تاہم کئی عرب ممالک علاقے میں امریکی عزائم کے بارے میں تشویش کا اظہار کرر ہے ہیں اور مصر اور سعودی عرب ان مذاکرات پر تنقید بھی کررہے ہیں۔ اس کے علاوہ غریب ممالک پر عالمی قرضے اور تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتیں بھی عالمی سربراہان کی گفتگو کا موضوع رہیں گے۔ یہ سربراہ اجلاس امریکی ریاست جورجیا میں ایک جزیرے پر ہورہا ہے جس کے گرد پولیس اور سیکورٹی فورسز نے سخت انتظامات کئے ہوئے ہیں۔ نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ اگرچہ یہ میٹنگ عراق پر نئی قرارداد منظور کئے جانے کی وجہ سے خاصے خوشگوار ماحول میں شروع ہوئی تھی لیکن مشرق وسطیٰ میں جمہوریت قائم کرنے کے صدر بش کے منصوبے کے معاملے پر یہ ماحول شائد اتنا خوشگوار نہ رہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||