نائجیریا:مذہبی فسادات، 67 ہلاک | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
نائجیریا میں پولیس نے کہا ہے کہ مسلمانوں اور عیسائیوں کے مابین ہونے والے حالیہ فسادات میں سڑسٹھ شہری ہلاک ہوگئے ہیں۔ یہ ہلاکتیں اس وقت ہوئیں جب عیسائی ملیشیا نے مسلمانوں کی ایک بستی پر حملہ کر دیا۔ پولیس کے ترجمان کا کہنا ہے کہ ہلاک ہونے والوں کی تعداد زیادہ ہو سکتی ہے۔ علاقے کے اسسٹنٹ کمیشنر نے صحافیوں کو بتایا کہ انہیں ہاؤسا گاؤں سے جان بچا کر بھاگنے والے افراد نے اطلاع دی تھی کہ گاؤں پر اتوار کے روز حملہ کیا گیا۔ انہوں نے کہا وہ اب تک سڑسٹھ لاشیں نکال چکیں ہیں جبکہ منگل کے روز مزید تلاش کی جائے گی۔ ایک موٹرسائیکل ٹیکسی ڈرائیور نے جو جان بچانے میں کامیاب ہو سکا تھا اخبار نویسوں کو بتایا کہ عیسائی تروک ملیشیا کے لوگ دو جیپوں پر جن پر مشین گینیں نصب تھیں گاؤں پر حملہ آور ہوئے تھے۔ علاقے میں مویشی چرانے والے مسلمانوں اور عیسائی زمیداروں کے درمیان دو ماہ سے جھڑپیں چل رہی ہیں۔ تنازعہ کا سبب زمین اور مویشی ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||