القاعدہ کے رکن کا اعتراف | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اردن کے سرکاری ٹیلیویژن نے مبینہ طور پر القاعدہ کے حراست میں ایک جنگجو کا بیان نشر کیا ہے جس میں اس نے اعتراف کیا ہے کہ وہ اردن میں مہلک کیمیائی حملوں کا منصوبہ بنا رہا تھا۔ ٹی وی پر دکھایا جانے والا شخص اپنا نام ابو موسی الزرکوی بتاتا ہے۔ امریکہ کے مطابق یہ شخص عراق میں القاعدہ کا سینیئر رکن ہے۔ ادرن نے اس ماہ کے شروع میں کہا تھا کہ اس نے اپنے ایک انٹیلی جنس کے ہیڈ کوارٹر پر کیمیائی حملہ ناکام بنا دیا تھا۔ اس حملے کی کامیابی کی صورت میں بیس ہزار افراد ہلاک ہو سکتے تھے۔ انٹیلی جنس کے ذرائع کے مطابق ان مبینہ حملوں میں اسی ہزار افراد مر سکتے تھے۔ اردن کے سرکاری ٹیلیویژن پر ایک اور شخص اعظمی الجیوسی کو بھی دکھایا گیا جو مبینہ طور پر اردن میں کام کرنی والی القاعدہ تنظیم کا رہنما ہے اور جسے اردن کے انٹیلی جنس کے ہیڈ کوارٹر پر حملے کا حکم دیا گیا تھا۔ ٹی وی نشریہ میں یہ بھی بتایا گیا کہ اردن کے حکام نے اس منصوبے کا انکشاف ہوتے ہی بیس اپریل کو اس گھر پر چھاپہ مارا جہاں سے القاعدہ کا مبینہ مرکز کام کر رہا تھا۔ اس چھاپے میں چار افراد ہلاک اور الجیوسی سمیت چھ افراد گرفتار کر لئےگئے۔ نیوز رپورٹ کے مطابق اس چھاپےمیں حکام کو وہ کیمیکلز بھی ملے جو حملے میں استعمال ہونے تھے۔ اردن کےحکام کے مطابق مبینہ طور القاعدہ کا ایک اور منصوبہ امریکی سفارت خانہ اور عمان میں وزیراعظم کے آفس پر زہریلی گیس کے حملے کا تھا۔ اس ماہ کے شروع میں اردن کے شاہ عبداللہ نے اپنے ایک خط میں اردن کے انٹیلی جنس کے ادارے کے سربراہ کا شکریہ ادا کیا تھا۔ انہوں نے اس خط میں کہا تھا کہ غیبی تائید سے مجرموں کا منصوبہ ناکام ہو گیا اور ہزاروں شہریوں کی جانیں بچ گئیں۔ اردن کے انٹیلی جنس کے ادارے کےسربراہ جنرل سعد خیر کے بقول اس مبینہ گروہ نے مذہب کو اپنے مذموم مقاصد کے لئے استعمال کرنے کی کوشش کی لیکن اس میں وہ ناکام رہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||