عرب سربراہ اجلاس پر مزید تنازع | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
تیونس میں عرب لیگ کے سربراہ اجلاس کی منسوخی کو حیرت ناک اور افسوس ناک قرار دیتے ہوئے مصر نے میزبانی کی پیشکش کی ہے۔ مصر نے کہا ہے کہ اجلاس کا جلد از جلد بلایا جانا ضروری ہے اور اب یہ اجلاس قاہرہ میں عرب لیگ کے صدر دفتر میں منعقد کیا جا سکتا ہے۔ تاہم اب اس سربراہ اجلاس کے انعقاد پر مصر اور تیونس کے درمیان ایک سفارتی تنازعہ پیدا ہوگیا ہے۔ سربراہ اجلاس سوموار کو شروع ہونا تھا لیکن عرب وزرائے خارجہ کے درمیان ایجنڈے پر اتفاقِ رائے نہ ہوسکا جس کے بعد تیونس نے اجلاس منسوخ کرنے کا اعلان کردیا تھا۔ تیونس نے مصر کی پیشکش پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ سربراہ اجلاس کا مقام تبدیل کرنے کی کوئی بھی کوشش دراصل ان اصل مسائل سے نظر چرانے کے مترادف ہوگی جن پر عدم اتفاق کی بناء پر اجلاس منسوخ کیا گیا۔ تیونس کے حکام کا یہ بھی اصرار ہے کہ وہ اب بھی اس اجلاس کے انعقاد کا حق رکھتے ہیں۔ توقع تھی کہ اس کانفرنس میں اسرائیل کی ساتھ صُلح کی کوششیں دوبارہ شروع کرنے کی منظوری دی جائے گی اور عالم عرب میں سیاسی اصلاحات کے بارے میں تجاویز پیش کی جائیں گی۔ عرب لیگ کے سیکرٹری جنرل عمرو موسٰی نے خبردار کیا ہے کہ تنظیم کے سربراہ اجلاس کے طویل التوا سے خطے کے لئے سنگین نتائج برآمد ہونے کا خدشہ ہے۔ لیکن اس سربراہ اجلاس سے قبل رکن ممالک کے وزراء خارجہ کے درمیان ابتدائی اجلاس کے دوران اس قدر اختلافات ابھر کر سامنے آئے کہ اجلاس کے میزبان تیونس کے لئے سربراہ اجلاس منسوخ کرنے کا اعلان کرنا پڑا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||