کوسوو: اقوام متحدہ کا عملہ واپس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اقوام متحدہ نے کوسوو کے قصبہ مترو ویکا سے جہاں دو روز سے جاری جھڑپوں میں مجموعی طور پر اکتیس افراد ہلاک ہو چکے ہیں اپنا عملہ واپس بلا لیا ہے۔ سیکرٹری جنرل کوفی عنان نے بتایا ہے کہ یہ فیصلہ قصبہ میں امن عامہ کی بگڑتی ہوئی صورت حال کے پیش نظر کیا گیا ہے۔ وہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ایک خصوصی اجلاس سے خطاب کر رہے تھے جو کوسوو میں سن ننانوے کے بعد ہونے والے بدترین تشدد پر غور کے لئے بلایا گیا تھا۔ جمعرات کے روز البانوی باشندوں نے آرتھوڈوکس گرجے اور سربوں کی املاک کو آگ لگا دی تھی۔ اقوام متحدہ کے عملے کو واپس بلانے اعلان سے قبل نیٹو نے ایک ہزار مزید فوجیوں کو خطہ میں بھیجنے کا اعلان کیا تھا جہاں نیٹو کے ساڑھے اٹھارہ ہزار فوجی پہلے ہی تعینات ہیں۔ سلامتی کونسل نے ان پرتشدد واقعات کی پرزور مذمت کی ہے اور اسے ناقابل قبول قرار دیا ہے۔ یہ فسادات اس وقت شروع ہوئے جب دو البانوی بچے ڈوب کر ہلاک ہوگئے تھے اور اس کا الزام مترو ویکا میں بسنے والی سرب اقلیت پر لگایا گیا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||