بش: انتخابی جنگ کا اعلان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صدر بش نے اکتوبر میں ہونے والے صدارتی انتخابات میں دوبارہ منتخب ہونے کے لیے مہم کا آغاز کر دیا ہے اور واشنگٹن میں اپنی تقریر میں انتخابی مہم میں اٹھائے جانے والے موضوعات کی نشاندھی کی ہے۔ صدر بش نے اپنی تقریر میں کہا کہ آئندہ انتخابات میں امریکی ووٹروں کو سوچناہوگا کہ وہ امریکہ کو ایک بااعتماد اور مضبوط ملک کے طور پر دیکھنا چاہتے ہیں یا اس کو ایک متزلزل اور خطرے میں گھرے ہوئے ملک کے طور پر دیکھنا چاہتے ہیں۔ اپنی پہلی انتخابی مہم میں انہوں نے عراق پر امریکی حملے کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ صدام حسین کو اقتدار سے ہٹانے کے بعد بہت محفوظ ہے۔ معاشی مسائل پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ان کے مدِ مقابل کی اقتصادی پالیسوں سے ٹیکس بڑھ جائیں گے۔ بی بی سی کے واشنگٹن کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ اس تقریر سے ظاہر ہوتا ہے کہ صدر بش کی مہم کے منتظم کو اب اپنی انتخابی حکمت عملی پر نظر ثانی کرنا ہوگی۔ رائے عامہ معلوم کرنے کے لیے کئے جانےوالے جائزوں کے مطابق ڈیموکریٹک پارٹی کے امیدوار جان کیری کی طرف سے کی جانے والی تنقید کے نتیجے میں صدر بش کی مقبولیت میں کمی واقع ہوئی ہے۔ انم جائزوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ صدر بش کی مقبولیت کا گراف پچاس فیصد سے بھی نیچے آ گیا ہے۔ کچھ مبصرین کا خیال ہے کہ اگر آج انتخابات ہو جائیں تو صدر بش جان کیری کے علاوہ جان ایڈورڈ سے بھی ہار جائیں گے۔ ڈیموکریٹک پارٹی کے امیدوار جان کیری نے صدر بش کی پہلی تقریر پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ایسا دکھائی دیتا ہے کہ بش پسپائی اختیار کر رہے ہیں۔ صدر بش نے اپنی تقریر میں امریکیوں کو خبر دار کیا کہ ڈیموکریٹک پارٹی کو اقتدار دینے سے امریکہ بے یقینی کی کیفیت سے دوچار ہو جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ امریکیوں کو یا تو ایسی پارٹی کو منتخب کرنا ہوگا جو ٹیکس بڑہاتی ہے یا ایسی پارٹی کا جو زیادہ مواقعے فراہم کرتی ہے۔ بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق اگر صدر بش اپنے مد مقابل سے خائف نہ ہوتے تو وہ اتنی دیر تک ان پر تنقید نہ کرتے۔ صدر بش نے کہا کہ ان کے سیاسی مخالفین نے عراق کے خلاف جنگ یا امریکہ کی معیشت کو مستحکم کرنے کے لیے کچھ نہیں کیا۔ انہوں نے کہ دوبارہ منتخب ہونے کے بعد وہ امریکی دشمنوں کا تعقب کرتے رہیں گے اور ’آزادی کی سرحدوں کو توسیع دیں گے‘۔ امریکی ذرائع ابلاغ کا کہنا ہے کہ صدر بش کی انتخابی مہم پر کئی ملین ڈالر خرچ ہوں گے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||