’خواتین کو 14 سیکنڈ سے زیادہ گھُورنا جرم؟‘

،تصویر کا ذریعہTwitter
انڈیا کی جنوبی ریاست کیرالہ کے ایکسائز کمشنر رشی راج سنگھ کے خواتین کو گُھورنے کے بارے میں متنازع بیان پر سوشل میڈیا میں بحث جاری ہے۔
آبکاری کمشنر نے کہا تھا کہ ’اگر ایک شخص کسی خاتون کو 14 سیکنڈ سے زیادہ وقت تک گھورتا ہے تو یہ جرم ہے اور اس شخص کو جیل بھیجا جا سکتا ہے۔‘
بہرحال انڈیا میں ایسا کوئی قانون نہیں ہے اور ان کے اس بیان کے بعد سوشل میڈیا پر لوگ حیرت کا اظہار کر رہے ہیں۔
اس ضمن میں ورون نائر varunnair@ کا کہنا تھا کہ ’سٹاپ واچ کے استعمال میں اضافے کی امید کیجیے۔‘
دھنوراج dhanuraj@ نے اپنی رائے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’یوم آزادی کے دن رشی راج سنگھ کے 14 سیکنڈ کے قانون کے بارے میں تذبذب کی حالت میں ہوں۔ میں اب اولمپكس کس طرح دیکھ پاؤں گا!‘

،تصویر کا ذریعہTwitter
سلمان ٹي ایس ایف lm_tsf@ نے ٹویٹ کیا ہے کہ ’ان مردوں کا کیا ہوگا جنھوں نے سیاہ چشمے پہن رکھے ہوں گے؟ کیرالہ کے آبکاری کمشنر رشی راج سنگھ کا 14 سیکنڈ گھورنے کا بیان۔ آپ کو تو پتہ ہے آدمی تو آدمی ہی رہے گا۔‘
مصطفی حسن drvetmhj@ نے ٹوئٹر پر لکھا: ’کیرالہ میں اب كاؤنٹ ڈاؤن 10 سے نہیں بلکہ 14 سے شروع ہوگا۔‘
گوتم ریڈی Gautham_rdy@ نے لکھا: ’کیا اگر کوئی 13.999999 سیکنڈ کے لیے گھورتا ہے تو؟ ریاضی کی جیت ہوگي۔ قوانین پر عمل ہونا ہی چاہیے۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
خیال رہے کہ خواتین اور مردوں کے تعلق سے ایسے متنازع بیانات پہلی بار نہیں آئے ہیں۔
اس سے قبل پولیس کی جانب سے لڑکیوں کے لباس پر جبکہ معروف سیاست دان کی جانب سے ریپ جیسے حساس موضوع پر ’لڑکے تو لڑکے ہی رہیں گے‘ جیسے بیانات کو وسیع پمیانے پر تنقید کا نشانہ بنایا جا چکا ہے۔







