خواتین کے لیے جسم ڈھانپنا کب لازمی ہوا

نوآبادیاتی دور میں جنوبی بھارت میں بعض عورتوں جسم کے اوپری حصے کو نہیں ڈھانپتی تھیں

،تصویر کا ذریعہHULTON ARCHIVE

،تصویر کا کیپشننوآبادیاتی دور میں جنوبی بھارت میں بعض عورتوں جسم کے اوپری حصے کو نہیں ڈھانپتی تھیں

اس ہفتے بھارتی اداکارہ گوہر خان کو ٹی وی سیٹ پر مختصر لباس پہننے پر ایک آدمی کی جانب سے تھپڑ مارنے اور ممبئی کے ایک لا کالج میں سخت ڈریس کوڈ عائد کرنے پر طلبہ میں پائے جانے والے غم و غصے کی خبریں آئیں۔

اسی پس منظر میں فیشن مورخ تولیکاگپتا کی مختلف ادوار میں بھارت میں فیشن پر ایک نظر ڈالی ہے۔

جسم کی کس حد تک نمائش کی جا سکتی ہے اس کا ہر ملک کا اپنا ایک معیار ہوتا ہے۔ لباس میں شرم و انکساری کا ہندوستانی خیال کیے جانے والا تصور درحقیقت برطانوی راج کی دین ہے۔

اگر تین سو سال قبل مسیح کے مورے اور سنگا ادوار کے مجسموں پر نظر ڈالی جائے تو ان میں خواتین اور مرد بہت مختصر لباس پہنے ہوئے نظر آئیں گےـ

ساتویں یا آٹھویں صدی کے گپتا دور کی تصاویر میں عورتوں نے صرف اپنی چھاتی اور جسم کے نچلے حصے کو ڈھانپا ہوا ہے۔

وکٹورین دور میں بنگال میں بعض عورتیں ساڑی کے نیچے چولی نہیں پہنتی تھیں اور ان کے جسم کا اوپری حصہ ننگا ہوتا تھا

،تصویر کا ذریعہBRITISH LIBRARY BOARD

،تصویر کا کیپشنوکٹورین دور میں بنگال میں بعض عورتیں ساڑی کے نیچے چولی نہیں پہنتی تھیں اور ان کے جسم کا اوپری حصہ ننگا ہوتا تھا

بھارت کے مختلف علاقوں اور برادریوں میں وقت کے ساتھ مختلف لباس پہننے کا رواج رہا ہے جس کا زیادہ تر انحصار موسم پر ہوتا تھا اور لوگوں نے وہی پہنا جو ان کے لیے آرام دہ تھا۔ لباس کے معاملے میں علاقائی فرق خاصا دلچسپ ہے۔ نوآبادیاتی دور سے قبل جنوبی بھارت میں بعض عورتوں جسم کے اوپری حصے کو نہیں ڈھانپتی تھیں۔

بھارت کی تاریخ میں مختلف ثقافتوں سے رابطے کی وجہ سے، جن میں رومن، یونانی عرب اور چینی ثقافت شامل ہے، فیشن اور خیالات تبدیل ہونے لگےـ

15ویں صدی میں مسلمان اور ہندو عورتوں کے لباس مختلف ہونا شروع ہو گئے، بعد کے ادوار میں عورتوں کے لباس پر مغلیہ سلطنت کے دور کا اثر واضح نظر آتے ہیں۔

ریپ کی وجہ عورت کا لباس نہیں بلکہ غلط سوچ ہے

،تصویر کا ذریعہBRITISH LIBRARY BOARD PHOTO 1000 46

،تصویر کا کیپشنریپ کی وجہ عورت کا لباس نہیں بلکہ غلط سوچ ہے

میں نے اس دور میں لباس کے ضابطے کے بارے میں کوئی تحریر نہیں دیکھی، مگر مسلم خواتین عام طور پر خود کو اچھی طرح ڈھانپ کر رکھتی تھیں اور منقسم کپڑے پہنتی تھیں۔

انہی منقسم کپڑوں سے شلوار قمیص نے جنم لیا جو آج بھارت اور پاکستان میں عملی طور پر قومی لباس ہے۔

وکٹورین دور میں بنگال میں بعض عورتیں ساڑی کے نیچے بلاؤز نہیں پہنتی تھیں اور ان کے جسم کے اوپر کا حصہ ننگا ہوتا تھا۔ چونکہ اس کو وکٹورین معاشرے میں اچھا نہیں سمجھا جاتا تھا اس لیے اسی دور میں چولی کا رواج عام ہو گیا۔

ساڑی کے نیچے چولی پہننے کو عورتوں میں مقبول کرنے میں جنندا نندی نےاہم کردار ادا کیا، جو مشہور بنگالی شاعر رابندر ناتھ ٹیگور کے بھائی ستیاندراناتھ ٹیگور کی بیوی تھیں۔

اگرچہ ساڑی اور چولی پہننے کے باوجود عورت کا پیٹ ننگا ہوتا ہے مگر اس کو روایت کے مطابق سمجھا جاتا ہے

،تصویر کا ذریعہTHINKSTOCK

،تصویر کا کیپشناگرچہ ساڑی اور چولی پہننے کے باوجود عورت کا پیٹ ننگا ہوتا ہے مگر اس کو روایت کے مطابق سمجھا جاتا ہے

چولی جسے انگریزی میں بلاؤز کہا جاتا ہے، برطانوی ایجاد ہے مگر بھارت میں اسے روایتی لباس تصور کیا جاتا ہے۔

اگرچہ ساڑی اور چولی پہننے کے باوجود عورت کا پیٹ ننگا ہوتا ہے مگر اس کو روایت کے مطابق سمجھا جاتا ہے۔ وقت کے ساتھ برطانوی اثر و رسوخ مزید بڑھ گیا اور اب ہم مختلف قسم کی چولیاں دیکھتے ہیں۔

بھارت میں برطانیہ کے برعکس لباس پہننے کے کوئی تحریری قواعد و ضوابط نہیں ہیں اور جو لوگوں نے مناسب سمجھا وہ پہنا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ کچھ لوگ سمجھتے ہیں کہ وہ عورتوں کے لیے لباس کا تعین کر کے ان کی حفاظت کر رہے ہیں۔ بھارتی خواتین اب کم از کم شہروں کی حدتک اپنی مرضی سے سب کچھ کرنے میں آزاد ہیں۔

ساڑی کے نیچے چولی پہننے کو عورتوں میں مقبول کرنے میں جنندا نندی نے اہم کردار ادا کیا جو مشہور بنگالی شاعر رابندر ناتھ ٹیگور کے بھائی ستیاندراناتھ ٹیگور کی بیوی تھیں

،تصویر کا ذریعہwikimedia commons

،تصویر کا کیپشنساڑی کے نیچے چولی پہننے کو عورتوں میں مقبول کرنے میں جنندا نندی نے اہم کردار ادا کیا جو مشہور بنگالی شاعر رابندر ناتھ ٹیگور کے بھائی ستیاندراناتھ ٹیگور کی بیوی تھیں

پھر بھی ہم دیکھتے ہیں کہ عورتوں کو اپنی مرضی کا لباس پہننے پر برا بھلا کہا جاتا ہے، اور کچھ لوگ لباس اور ریپ کے درمیان تعلق جوڑنے کی کوشش کر تے ہیں۔

یہ لوگ یہ نہیں سمجھتے کہ ریپ کی وجہ عورت کا لباس نہیں بلکہ یہ بعض مردوں کی غلط سوچ کا نتیجہ ہے۔

ہمارا لباس ہماری شناخت ہے، لیکن بعض چیزیں جنھیں ہم ہندوستانی روایت سمجھتے ہیں وہ بالکل بھی ہندوستانی نہیں ہیں۔