انڈیا میں شراب نوشی سڑکوں پر کیوں؟

انڈیا میں شراب نوشی گھر والوں اور شناسا سے نظریں بچا کر کیا جانے والا شغل ہے

،تصویر کا ذریعہ

،تصویر کا کیپشنانڈیا میں شراب نوشی گھر والوں اور شناسا سے نظریں بچا کر کیا جانے والا شغل ہے

انڈیا میں شراب نوشی بنیادی طور پر گھر کے باہر تاریکی میں کیا جانے والا شغل ہے۔

صحافی پلاش کرشن مہروترا لکھتے ہیں کہ اندھیرے اور بوتل کا چولی دامن کا ساتھ ہے یہاں تک کہ بعض پر رونق شراب خانوں میں بھی روشناں مدھم کر دی جاتی ہیں اور کھڑکیوں پر چقیں گرا دی جاتی ہیں۔

حالانکہ زیادہ تر ریاستوں میں اس پر پابندی نہیں ہے لیکن اس کے باوجود شراب نوشی انڈیا میں پوشیدہ اور ناجائز عمل ہے۔

عام انڈینز کی نظر میں گھر میں شراب نوشی کرنا قابل قبول نہیں۔ آپ اپنی والدہ کے سامنے احتراماً نہیں پی سکتے اور اہلیہ کے ساتھ بھی نہیں پی سکتے (کیونکہ وہ آپ کو جھاڑو سے مارے گی)، اس لیے اگر آپ پینا چاہتے ہں تو پھر آپ کو گھر سے باہر جانا ہو گا۔

میں الہ آباد میں پیدا ہوا جو گنگا جمنا کے سنگم اور ہر 12 سال بعد منعقد کیے جانے والے کمبھ میلے کے لیے معروف ہے۔

کئی جگہ شراب پر پابندی ہے لیکن پینے والے وہاں بھی کام نکال لیتے ہیں
،تصویر کا کیپشنکئی جگہ شراب پر پابندی ہے لیکن پینے والے وہاں بھی کام نکال لیتے ہیں

سنہ 1980 کی دہائی میں وہاں کوئی شراب خانہ نہیں تھا اور پبلک ٹرانسپورٹ کے نام پر سائیکل رکشہ واحد سواری تھی۔ شراب پینے کا آسان ترین طریقہ سائیکل رکشہ آدھے گھنٹے کے لیے لینا تھا، رکشے والا آپ کو سنسان راستوں سے لے کر گزرتا رہے گا اور اس دوران آپ اپنی بیئر جلدی میں ختم کر لیں۔

اب میں پہاڑی علاقے دہرہ دون میں رہتا ہوں جہاں کوئی سائیکل رکشہ نہیں ہے لیکن آٹو رکشہ والے اس کے لیے بہت مناسب ہیں۔

رکشے والا برساتی پردہ گرا دیتا ہے اور آپ راہ گیروں کی نظروں سے چھپ کر پی لیتے ہیں۔ رکشے والا آگے بیٹھتا ہے آپ پیچھے ہوتے ہیں، وہ دو پلاسٹک کے گلاس نکالتا ہے اور تین گھونٹوں میں دیسی وسکی کی ایک چوتھائی بوتل غٹ کر جاتا ہے۔

وہ وسکی ڈالتا ہے، پانی ملاتا ہے اور غٹ کر جاتا ہے اور میں ابھی تک پہلے ہی گلاس کی چسکیاں لے رہا ہوں۔

وہ کہتا ہے: ’جلدی کرو۔ یار گھر بھی تو جانا ہے، بیوی کا فون آ رہا ہے۔‘

رکشہ ڈرائیور نند لال نے بتایا کہ دہرہ دون میں ہسپتال کی پارکنگ پینے کے لیے سب سے پرسکون جگہ ہے۔

آپ اپنی وسکی لیتے رہیں جبکہ ڈاکٹر، نرسیں، مریض آتے جاتے رہتے ہیں۔ اگر آپ زیادہ پیتے ہیں تو رات میں ہسپتال میں سو جائیں جہاں کمرے بالکل صاف اور بستر کی چادریں سفید ہوتی ہیں۔

انڈین اپنی گاڑیوں میں پینا پسند کرتے ہیں۔ ہندوستان کے بارز کی طرح روشنی مدھم ہوتی ہے اور ایئرکنڈیشنر تیز ہوتا ہے۔

ٹرین میں بھی شراب پینے والے پینے کا انتظام کر لیتے ہیں

،تصویر کا ذریعہ

،تصویر کا کیپشنٹرین میں بھی شراب پینے والے پینے کا انتظام کر لیتے ہیں

کار میں پینے والے دو طرح کے ہوتے ہیں۔ پہلے شادیوں کے موقعے پر پینے والے ہوتے ہیں۔ کار باراتیوں کے ساتھ سب سے پیچھے ہوتی ہے اور کار میں بار بھی ہوتا ہے جسے وہ اپنی انگریزی میں ’کار- و- بار‘ کہتے ہیں۔

ہر بار جب لوگ ناچنے یا پھر پٹاخہ پھوڑنے کے لیے رکتے ہیں کاریں بھی رکتی ہیں، کار کی ڈکی کھولی جاتی ہے لوگ ایک حصار بنا لیتے ہیں اور پھر جلدی سے پی کر کچھوے کی چال سے رواں برات میں شامل ہو جاتے ہیں۔

کار میں پینے والے دوسری طرح لوگ وہ ہیں جو اپنے چکن تکہ تیار کرنے والی کسی دکان کے قریب اپنی کار کھڑی کرتے ہیں۔

شمالی بھارت کے تمام شہروں میں اس طرح کی جگہ ضرور ہے۔ پینے والے اپنے ہمراہ ایک ساتھی رکھتے ہیں۔ گیئر کے پاس پلاسٹک کے گلاس بوتل کے ساتھ احتیاط سے رکھے جاتے ہیں۔ چکن تکہ کھڑکی سے پہنچایا جاتا ہے اور موسیقی پورے شباب پر ہوتی ہے اور آپ اندھیرے میں بیٹھے کھاتے پیتے رہتے ہیں اور کار میں لگے میوزک سسٹم کی روشنی یہ احساس دلاتی ہے کہ آپ بار میں ہیں۔

اب تک تو آپ کی سمجھ میں آگیا ہوگا کہ انڈیا کے لوگ شراب پی کر آگے بڑھ جانے والے ہوتے ہیں۔

کاروں میں عام طور پر پینے والا عموماً اپنے ساتھ ایک دوست یا چیلے کو رکھتا ہے

،تصویر کا ذریعہ

،تصویر کا کیپشنکاروں میں عام طور پر پینے والا عموماً اپنے ساتھ ایک دوست یا چیلے کو رکھتا ہے

ہم ریل گاڑیوں میں بھی پیتے ہیں جہاں شراب نوشی غیر قانونی ہے۔ کچھ وسکی پلاسٹک کی بوتلوں میں رکھ لی جاتی ہے اور آپ ٹرین میں پہلے سے تیار شدہ محلول کے ساتھ سوار ہوتے ہیں اور ان مرکبات کو ’پارٹی پیکس‘ کہا جاتا ہے۔

طویل سفر پر آپ ٹرین کے میزبان کو بتا دیتے ہیں کہ آپ کو کیا پینا ہے کیونکہ شراب اس سٹیشن پر خریدی جاتی ہے جہاں گاڑی دیر تک رکتی ہے۔

ایک بار میں ممبئی اور دہلی کے درمیان چلنے والیی ایک ایئر کنڈیشنڈ ٹرین میں تھا۔ سکھوں کا ایک کنبہ ٹرین میں سوار ہوا۔ مردوں نے باہر جہاں ایئر کنڈیشن نہیں تھا ایک عارضی بار تیار کر لیا یعنی دروازے اور ٹوائلٹ کے درمیان۔ ان کے پاس دو مرغیوں کے گوشت تھے جسے انھوں نے بھوننے کے لیے کچن میں بھیج دیا اور کچن کے ملازم کو آدھی وسکی کی بوتل بطور رشوت پیش کر دی گئی۔

پینے کا سب سے مزیدار تجربہ بنگلور کی شراب کی دکانوں کے عقب میں موجود گندے کمروں میں ہے۔

سنسان اور اندھیری گلیاں انڈیا کے نوجوان شراب نوشوں کو راس آتی ہیں

،تصویر کا ذریعہ

،تصویر کا کیپشنسنسان اور اندھیری گلیاں انڈیا کے نوجوان شراب نوشوں کو راس آتی ہیں

وہاں ایک دو پنکھے ٹنگے ہیں اور لکڑی کی بینچ اور میزیں ہیں۔ آپ پانی، سوڈا اور کچھ کھانے کے لیے خرید سکتے ہیں۔ یہاں بنیادی بات بغیر کسی ہنگامے کے پینا ہے۔ یہاں اونچے نیچے کی تفریق مٹ جاتی ہے۔ اور یہاں سافٹ ویئر انجینیئر سے لے کر مزدور تک آتے جاتے رکتا ہے۔

وسکی چھوٹے پیک میں آتی ہے جس طرح کوئی سافٹ ڈرنک۔ ان عقبی کمروں میں ہندوؤں کی دیوی درگا کی تصویر ٹنگی ہوتی ہے۔ میں نے ایک بار میں نے اس کا سب دریافت کیا تو ایک ساتھی شرابی نے بتایا کہ درگا شرابیوں کی محافظ ہے۔

آپ اپنی موٹر سائیکل یا سکوٹر پر لڑکھڑاتے ہوئے جاتے ہیں لیکن آپ درگا کی محافظ نظروں میں ہوتے ہیں۔

زیادہ تر ہندوستانی گھروں میں نہیں پی سکتے اس لیے وہ مجبوراً باہر سڑکوں کے کنارے جاتے ہیں لیکن آپ کہیں بھی سڑک پر بیٹھ کر نہیں پینے لگتے ہیں، اس مقصد کے لیے آپ کوئی سنسان گلی تلاش کرتے ہیں جو عام سڑک سے علیحدہ ہو۔

کئی ریاستوں میں شراب پر حال ہی میں پابندی عائد کی گئی ہے
،تصویر کا کیپشنکئی ریاستوں میں شراب پر حال ہی میں پابندی عائد کی گئی ہے

میں اسی قسم کی ایک گلی کے آخر میں رہتا ہوں جو مناسب طور پر پرسکون اور تاریک ہے۔ سٹریٹ لائٹ جھلملاتی رہتی ہے اور آپ آتے ہیں اپنی موٹر سائیکل روکتے ہیں اور سیٹ بار کاؤنٹر کام دیتی ہے۔ میں عام طور پر ہفتے کو اپنے گھر کی کھڑکی کے باہر نوجوانوں کی بلند آوازیں سنتا ہوں۔

دوسرے دن صبح میرے پڑوسی کی بیٹی میرے والد کے ساتھ وہاں سے گزرتی ہے اور بوتلیں دیکھ کر کہتی ہے: ’چچا ہمیں اس گلی میں ایک دروازہ لگا دینا چاہیے کیوں کہ یہاں بہت سے لڑکے پینے کے لیے آ رہے ہیں۔‘