بنگلہ دیش: آسمانی بجلی گرنے سے 50 افراد ہلاک

موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے ایسے حادثے ہو رہے ہیں

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنموسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے ایسے حادثے ہو رہے ہیں

بنگلہ دیش کے حکام کا کہنا ہے کہ گذشتہ دو روز کے دوران ملک میں آسمانی بجلی گرنے کے واقعات میں کم از کم 50 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

مرنے والوں میں اکثریت کھیتوں میں کام کرنے والے کسانوں کی ہے۔

بنگلہ دیش میں آسمانی بجلی گرنے کے واقعات ہوتے رہتے ہیں لیکن اس برس ایسے واقعات میں شدت دیکھنے میں آئی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے ایسے حادثے ہو رہے ہیں۔

ہلاک ہونے والوں میں ملک کے دارالحکومت کے رہائشی دو طالبعلم بھی شامل ہیں۔ حکام کے بقول وہ فٹبال کھیل رہے تھے جب ان پر آسمانی بجلی گری۔

امریکی نشریاتی ادارے وائس آف امریکہ کے مطابق رواں برس مارچ کے مہینے سے لے کر اب تک 90 افراد آسمانی گرنے کے واقعات میں ہلاک ہوچکے ہیں۔جبکہ سنہ 2015 میں ایسے حادثوں کا نشانہ 51 افراد بنے تھے۔

بنگلہ دیش میں قدرتی آفات سے نمٹنے کے لیے بنائی گئی کمیٹی کے سربراہ محمد ریاض احمد نے امریکہ نشریاتی ادرے سے بات کرتہ ہوئے کہا ہے کہ ’ ایسے واقعات میں ہونے والی ہلاکتوں میں اضافہ باعثِ تشویش ہے۔‘

انھوں نے بتایا کہ رواں برس مزید طوفان آنے کا امکان ہے۔

خیال رہے کہ بنگلہ دیش میں جون سے لے کر ستمبر تک مون سون کا سیزن رہتا جس کے دوران ملک میں اکثر شدید بارش اور طوفان آتے ہیں۔