’کیرالہ میں ووٹ خریدنے کی روایت نہیں‘

انڈیا کی ریاست کیرالہ میں ادوکی اور تریوینڈرم کی سڑکوں پر گاڑیوں کا ایک قافلہ خوب شور شرابے کے ساتھ نکالا گیا۔ یہ ریلی سیاست دان جیا لالیتھا کی تھی اور اس ریلی میں ان کی جماعت آل انڈیا انّا دراویڈ مُنیتر کڑگم کا انتخابی نشان بھی تھا۔

اس ریلی اور اس کے شور کے علاوہ امیدواروں کو نوجوان مردوں نےگھیر رکھا تھا جنھوں نے گلے میں سونے کی چین پہن رکھی تھیں اور جیبوں میں 500 روپے کے نوٹ کی گڈیاں تھیں جن کو وہ بانٹے جا رہے تھے۔

جیا لالیتھا کی جماعت کیرالہ کی ہمسایہ ریاست تمل ناڈو میں حکومت میں ہے۔ یہ جماعت تمل ناڈو کے بعد کیرالہ میں بھی وہی انتخابی حربے استعمال کر رہی ہے یعنی مفت چیزیں بانٹنا۔

بلدیاتی انتخابات میں جیت کے بعد جیا لالیتھا کی جماعت اسمبلی کی سات نشستوں کے لیے لڑنے کے لیے تیار ہے جو مئی میں ہونے والے ہیں۔

شراب کے کاروبار کی بڑی شخصیت بجو رمیش جنھوں نے کے ایم مانی جیسے بڑے سیاستدان کو شکست دی تھی بھی آل انڈیا انّا دراویڈ مُنیتر کڑگم کی ٹکٹ سے انتخابات میں حصہ لے رہے ہیں۔

رمیش بڑے بڑے وعدے کر رہے ہیں۔ شادی کے لیے 50 ہزار روپے اور سونا، 25 ہزار روپے بچے کی پیدائش کے لیے، صرف 20 روپے میں تین وقت کا کھانا، لیپ ٹاپ، لڑکیوں کے لیے سائیکلیں، الیکٹرانکس، ٹی وی ۔۔۔ یہ سب جیا لالیتھا تمل ناڈو میں مہیا کرتی ہیں۔ رمیش نے کہا کہ ہاں ایک اور مزید چیز ’کوڑا ٹھکانے لگانے کا پلانٹ۔‘

انھوں نے کہا ’اگر میں جیت گیا تو آل انڈیا انّا دراویڈ مُنیتر کڑگم اس حلقے میں لوگوں کو یہ سب کچھ فراہم کرے گی۔ اور پھر حکمرانوں کو دیگر ریاستوں میں بھی یہ سہولیات فراہم کرنی ہوں گی۔‘

دوسری جانب ادوکی میں کیرالہ پولیس نے تمل ناڈو سے آنے والی بڑی تعداد میں نقدی، چھتریاں اور دیگر تحائف قبضے میں لیے ہیں۔

پولیس کا کہنا ہے کہ ادوکی کے اس علاقے میں جہاں تمل آبادی اکثریت میں ہے، آل انڈیا انّا دراویڈ مُنیتر کڑگم ووٹ حاصل کرنے کے لیے مفت میں تحائف بانٹ رہی ہے۔

کیرالہ ایک نہایت سیاسی شعور رکھنے والی ریاست ہے اور یہاں کے لوگ کبھی بھی تحائف کے جھانسے میں نہیں آئیں گے۔

سیاسی تجزیہ کار جیکب جارج کا کہنا ہے ’کیرالہ میں کبھی بھی ووٹرز کو رشوت دے کر خریدنے کی روایت نہیں رہی۔ ہم ہمیشہ سے سیاسی جماعت کی کارکردگی اور امیدواروں ساکھ کو دیکھتے ہیں۔‘