بنگلہ دیش کے 50 دریا خشک ہو گئے

بنگلہ دیش میں ماہرین کا کہنا ہے کہ گذشتہ نصف صدی میں ملک میں اوسطاً سالانہ ایک دریا خشک ہو رہا ہے۔ بنگلہ دیش کے دریاؤں کی ناراضی کی کیا وجوہات ہیں؟ بی سی بنگالی سروس کے مسعود خان نے اس سوال کا جواب تلاش کرنے کی کوشش کی ہے۔

بنگلہ دیش کے وسط میں ایک چھوٹا سا قصبہ چاٹ موہر ہے جسے جھیل چلن کی دلدلی زمین بھی کہا جاتا ہے۔

ماضی میں دریائے بارال چاٹ موہر قصبے کے قریب سے گزرتا تھا لیکن اگر اُسے اب دیکھا جائے تو کہا جا سکتا ہے کہ دریا تقریباً خشک ہو گیا ہے۔ اس جگہ پر پانی تو ہے لیکن وہ بہتا نہیں ہے، بس ایک جگہ پر روکا ہوا اور بدبودار ہے۔ یہ جگہ مچھروں کی افزائش کے لیے موزوں ترین ہے۔

اس دریا کے اُس پار ڈیم ہے جو خالی پڑا ہے اور اُسے سڑک کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔ دریا پر بیراج بنا ہے جس کے دروازے کبھی پانی کو مختلف سمتوں میں موڑتے ہوں گے لیکن اب وہاں پانی نہیں ہے۔

نزدیکی گاؤں کے رہائشی محمد خلیل رحمان نے بتایا کہ ’چلن بھیل کے علاقے سے زرعی اجناس لے کر کشتیاں دریا کے ذریعے ملک کے دوسرے علاقوں میں جایا کرتی تھیں لیکن چاٹ موہر بندرگاہ اب بند ہو گئی ہے۔‘

انھوں نے بتایا کہ دریائے بارال میں پانی کا دار و مدار اب محض بارشوں پر ہے اور تمام مچھلیاں مر گئی ہیں۔

خلیل رحمان کہتے ہیں: ’آگر آپ غور سے معائنہ کریں تو پتہ چلے گا کہ جنگلی پرندے بھی دریائے بارال سے پانی نہیں پیتے کیونکہ یہ اتنا خراب ہے۔‘

دریائے بارال کے ساتھ بھی بالکل وہی ہوا جو بنگلہ دیش کے دوسرے دریاؤں کے ساتھ ہو رہا ہے۔

یہ سب 1985 میں شروع ہوا جب ملک کے مغربی ضلعے راج شاہی سے 45 کلومیٹر کے فاصلے واٹر ڈیویلپمنٹ بورڈ نے دریا کا زور روکنے کے لیے اُس کے دہانے پر ڈیم بنانے کا فیصلہ کیا۔

ڈیم بنانے کا مقصد دروازوں کے ذریعے سیلاب کے پانی کو کنٹرول کرنا تھا لیکن جن افراد نے ڈیم بنانے کی منصوبہ بندی کی انھوں نے دریا کے بہاؤ روکنے سے پیدا ہونے والے مسائل پر کوئی دھیان نہیں دیا۔

اس کا نتیجہ یہ کہ چند ہی ماہ کے بعد لاکھوں افراد یعنی کسانوں، تاجروں، ماہی گیروں اور ملاحوں کے لیے دریا خشک ہو گیا۔

ایسا ہی شمالی دریا تیستا کے ساتھ ہوا۔ یہ دریا انڈیا سے بنگلہ دیش آتا تھا لیکن انڈیا نے سرحدی علاقے پر دریا پر ڈیم بنا دیا۔

دریائے تراگ صنعتی علاقوں کے قریب ہونے کی وجہ سے بہت آلودہ ہو گیا ہے۔

دارالحکومت ڈھاکہ کے درمیان بہتا ہوا دریائے بوڑھی گنگا پر ریئل اسٹیٹ ڈیویلپر اور صنعت کاروں کا قبضہ ہے۔

گو کہ ماہرین، سرکاری حکام اور ماحولیات کے لیے آواز اُٹھانے والے افراد خشک ہونے والے دریاؤں کی تعداد پر متفق نہیں ہیں لیکن گذشتہ 50 برسوں میں بنگلہ دیش میں 50 سے 80 دریا ختم ہو گئے ہیں۔

نیشنل ریور کنزرویشن کمیشن کے نو متخب چیئرمین محمد اطہر اسلام کا کہنا ہے کہ 1970 کی دہائی میں بنگلہ دیش میں دریائی زمین کا رقبہ تقریباً 24 ہزار کلومیٹر تھا جو اب کم ہو کر 16 ہزار مربع کلومیٹر ہو گیا ہے۔ یہاں تک کہ مون سون کے موسم میں بھی ایسا ہی ہوتا ہے۔

’حالات کا اندازہ اس سے ہوتا ہے کہ خشک ادوار میں دریائی زمین کا رقبہ کم سے کم ہو کر تین ہزار مربع کلومیٹر تو ہو جاتا ہے۔‘

ماہرین کا کہنا ہے کہ بنگلہ دیش کے خشک ہوتے دریاؤں کے خطرناک نتائج سامنے آنا شروع ہو گئے ہیں اور اگر دریاؤں کو بچانے کے فوری اقدامات نہیں کیے گئے تو بنگلہ دیش دریاؤں کے لحاظ سے مشہور اپنی شناخت کھو دے گا۔