خلیج تعاون کونسل نےحزب اللہ کو دہشتگرد قرار دے دیا

حزب اللہ کے عسکری بازو کو یورپی یونین نے بلیک لسٹ کیا ہوا ہے
،تصویر کا کیپشنحزب اللہ کے عسکری بازو کو یورپی یونین نے بلیک لسٹ کیا ہوا ہے

چھ خلیجی ممالک پر مشتمل خلیج تعاون کونسل نے لبنان کی تنظیم حزب اللہ کو دہشت گرد قرار دے دیا ہے۔ خلیج تعاون کونسل سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، کویت، بحرین، عمان اور قطر پر مشتمل ہے۔

خلیج تعاون کونسل کے سیکریٹری جنرل نے ایران کی پشت پناہی میں کام کرنے والے شیعہ مسلک سے تعلق رکھنے والے گروہ پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ خیلجی ممالک سے نوجوان کو بھرتی کر کے مسلح کارروائیوں کے لیے استعمال کر رہا ہے۔

حزب اللہ لبنان کا ایک اہم مسلح گروہ ہونے کے ساتھ ساتھ ملک کی سیاست میں بھی اہم حیثیت کا حامل ہے اور وہ شام میں حکومت مخالف گروہ کو ختم کرنے کے لیے بھی شامی فوج کے ساتھ عملی تعاون کر رہا ہے۔

سعودی عرب اور اس کے اتحادیوں کی طرف سے حزب اللہ تحریک کے خلاف یہ تازہ اقدام ان کوششوں کا حصہ ہے جو خطے اور خاص طور پر لبنان میں اس کے اثر و رسوخ کو کم کرنے کے لیے کی جا رہی ہیں۔

دو ہفتے قبل سعودی عرب نے لبنان کو تین ارب ڈالر کی فوجی امداد بند کر دی تھی جس کا سبب لبنان کی طرف سے تہران میں سعودی عرب کے سفارت خانے پر حملے پر خاموشی اختیار کیے رکھنا تھا۔ تہران میں سعودی سفارت خانے پر مظاہرین نے حملہ سعودی عرب میں ایک شیعہ عالم کو موت کی سزا دیے جانے پر احتجاج کے دوران کیا تھا۔

سعودی عرب اور دو اور خلیجی ممالک بحرین اور متحدہ عرب امارات نے اپنے شہروں کو لبنان سفر نہ کرنے کی ہدایات جاری کی تھیں۔

خیلیج ممالک کی طرف سے حزب اللہ کو دہشتگرد تنظیم قرار دینے سے یہ امریکہ اور یورپی یونین کے ساتھ آ کر کھڑے ہوگئے ہیں گو کہ یورپی یونین نے حزب اللہ کے عسکری بازو کو بلیک لسٹ کیا ہوا ہے۔

خلیجی تعاون کونسل کے سیکریٹری جنرل عبدلطیف الزیانی نے ایک بیان میں حزب اللہ پر الزام عائد کیا کہ وہ خلیجی ممالک جن میں عمان، قطر اور کویت کے خلاف کارروائیوں میں ملوث ہے۔

حسن نصر اللہ نےحال ہی میں سعودی عرب کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا ہے
،تصویر کا کیپشنحسن نصر اللہ نےحال ہی میں سعودی عرب کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا ہے

بیان میں مزید کہا گیا کہ ان کارروائیوں میں نوجوان کو بھرتی کرنا، اسلحہ اور بارود کی سمگلنگ، بغاوت پر اکسانے اور ملک میں افراتفریحی اور تشدد کو ہوا دینے کی کوششیں شامل ہیں۔

خلیجی ممالک کے اس اعلان سے ایک روز قبل حزب اللہ کے سربراہ حسن نصراللہ نے سعودی عرب کو خبردار کیا تھا کہ اس نے لبنان کی فوجی امداد بند کر کے لبنان کو ایک نئے سیاسی بحران میں دھکیل دیا ہے اور ملک کی سیاحت کی صنعت کو بھی نقصان پہنچایا ہے۔

حسن نصراللہ نے لبنان، شام اور عراق میں حال ہی میں ہونے والے کار بم دھماکوں کو براہ راست ذمہ دار سعودی عرب کو قرار دیا تھا۔ انھوں نے یمن میں سعودی عرب اور اس کے اتحادیوں کی طرف سے حوثی قبائل کے قتل عام کی بھی شدید الفاظ میں مذمت کی تھی۔

خلیجی ممالک کی طرف سے اس اعلان کے بعد لبنان میں سعودی عرب کے حمایتی سنی فرقے کے سیاست دان سعد حریری نے بھی حزب اللہ کے خلاف بیان دیا ہے اور شام اور یمن میں حزب اللہ کی کارروائیوں کو مجرمانہ، غیر قانونی اور دہشت گردی کے مترادف قرار دیا ہے۔ لیکن ساتھ ہی انھوں نے اس خواہش کا اظہار کیا ہے کہ وہ ملک کے اندر حزب اللہ سے بات چیت کا سلسلہ جاری رکھیں گے تاکہ ملک کو بغاوت اور خانہ جنگی سے محفوظ رکھا جا سکے۔