’بھگوان نے سمن کی تعمیل نہیں کی‘

،تصویر کا ذریعہAFP
کچھ سال قبل ’موت، تباہی اور دہشت گردی‘ جیسی منفی سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے الزام میں ایک امریکی سینیٹر نے خدا کے خلاف مقدمہ درج کروایا تھا۔
سینیٹر کا کہنا تھا کہ ’موت، تباہی اور دہشت گردی‘ خدا کی ’نقصان دہ سرگرمیوں‘ ہیں جن پر قانونی فیصلہ سنایا جانا چاہیے۔
متعلقہ جج نے یہ کہتے ہوئے مقدمہ منسوخ کر دیا کہ خدا کو قانونی کاغذات نہیں بھیجے جا سکتے کیونکہ اس کا کوئی مناسب پتہ نہیں ہے۔
بھارت میں کئی دین دار ہندو اپنے بھگوانوں کے ساتھ بہت قریبی تعلقات رکھنے کا دعویٰ کرتے ہیں۔
بھارت کا عدالتی نظام اس بات کو مد نظر رکھتے ہوئے بھگوانوں یا دیوتاوں کو قانونی مخلوق کا درجہ دیتا ہے جس کے نتیجے میں ایسے کئی واقعات پیش آئے ہیں جہاں بھگوانوں کے خلاف مقدمے بھی درج کروائے جاتے ہیں۔
دہلی میں بی بی سی کی نامہ نگار گیتا پانڈے نے ان مقدموں کی فہرست بنائی ہے جہاں بھگوانوں نے انسان کے بنائےگئے قوانین کا سامنا کیا ہے۔
اس ماہ کے اوائل میں ملک کی شمالی ریاست بہار کی ایک عدالت نے ہندوؤں کے بندر کی شکل کے بھگوان ہنومان کے خلاف ’سرکاری زمین پر اپنی حد سے تجاوز کرنے‘ کا مقدمہ درج کروایا۔

،تصویر کا ذریعہAnkit Kumar
یہ اقدام اس وقت اٹھایا گیا جب ایک سرکاری محکمے نے مجسٹریٹ کی عدالت میں ہنومان مندر کے خلاف یہ کہتے ہوئے شکایت درج کرائی کہ اس سے ٹریفک متاثر ہو رہی تھی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
عدالت کا سمن دینے والے حکام نے مندر میں جا کر ہنومان کے بت پر عدالت کے کاغذات چپکا دیے۔
بعد میں شرمندہ حکام نے کہا کہ یہ ’ کتابت کی غلطی‘ تھی، اور یہ کہ کاغذات ’مندر کی انتظامیہ کے لیے تھے، بھگوان کے لیے نہیں۔‘
انھوں نے پھر ہنومان کے بت پر سے سمن کے کاغدات ہٹا دیے۔
اس کے علاوہ ایک وکیل نے حال ہی میں ہندوؤں کے سب سے مقبول بھگوانوں میں سے ایک رام کے خلاف ’اپنی بیوی سیتا کے ساتھ نا انصافی‘ کرنے کا مقدمہ درج کیا۔
چندن کمار سنگھ کہتے ہیں کہ وہ ایک ہندو ہیں اور دنیا میں لاکھوں لوگوں کی طرح رام کی پوجا کرتے ہیں، لیکن یہ بات نہیں بھول سکتے کہ رام نے سیتا کے ساتھ برا سلوک کیا۔
مجسٹریٹ نے اس کیس کو یہ کہتے ہوئے مسترد کر دیا کہ یہ عملی نہیں تھا۔ چندن کے ساتھیوں نے بھی ان پر ’شہرت کے بھوکے‘ ہونا کا الزام عائد کیا ہے۔
ان میں سے ایک نے چندن کے خلاف بدنامی کا مقدمہ بھی درج کروایا ہے۔

،تصویر کا ذریعہGeeta Pandey
لیکن چندن ان باتوں سے بے پرواہ ہیں۔ اُنھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ اس لیے اپیل درج کروائیں گے کیونکہ ’میں سمجھتا ہوں کہ بھارتیوں کو یہ بات تسلیم کرنی چاہیے کہ رام نے سیتا کے ساتھ برا سلوک کیا تھا۔‘
دسمبر سنہ 2007 میں بھگوان رام اور ہنومان دونوں کو ایک زمین کے تنازع کو حل کرنے میں مدد کرنے کے لیے عدالت میں پیش ہونے کے لیے بلایا گیا۔
مشرقی ریاست جھارکنڈ کے جج کے حکم پر اخباروں میں اشتہارات شائع کیے گئے جن میں بھگوانوں کو ’خود عدالت میں پیش ہونے کے لیے کہا گیا۔‘
سمن میں لکھا گیا: ’آپ کو ایک ڈاکیے کے ذریعے اور پھر بعد میں ڈاک کے ذریعے بھی عدالت کے سمن بھجوائے گئے اور آپ پھر بھی حاضر نہیں ہوئے۔ اب آپ کو عدالت میں پیش ہونے کا حکم دیا گیا ہے۔‘
اطلاعات کے مطابق دونوں بھگوانوں کو بھجوائے گئے دو پچھلے سمن ’نامکمل‘ پتوں کی وجہ سے واپس آ چکے ہیں۔
یہ تنازعہ مشرقی ریاست جھارکنڈ میں دھنباد شہر میں ایک زمین پر شروع ہوا جہاں بھگوان رام اور ہنومان کے دو مندر کھڑے ہوئے تھے۔
مقامی لوگوں نے کہا کہ یہ زمین بھگوانوں کی تھی لیکن مندر کے پادری نے کہا کہ یہ زمین اس کی تھی۔

،تصویر کا ذریعہAFP
سنہ 2010 میں ہائی کورٹ نے فیصلہ سنایا کہ بھگوان سٹاک مارکٹ میں تجارتی سرگرمیاں نہیں کر سکتے ہیں۔
ججوں نے ایک مذہبی ٹرسٹ کی جانب سے ایک درخواست مسترد کر دی جو ہاتھی کے سر والے بھگوان گنیشا سمیت پانچ بھگوانوں کے نام تجارتی اکاؤنٹ کھولنا چاہتا تھا۔
یہ ٹرسٹ مہاراشٹر کی مغربی ریاست میں سابق شاہی خاندان ’سنگلی‘ کی ملکیت میں تھا جس کا کہنا تھا کہ ان بھگوانوں کے نام پر بینکوں میں سیوونگ اکاؤنٹ کے ساتھ ساتھ انکم ٹیکس کارڈز بھی تھے۔ لیکن ججوں کا فیصلہ نہیں بدلا۔
سٹاک مارکٹ میں شیئر خریدنے اور بیچنے کے کاروبار میں خاص مہارت کی ضرورت ہوتی ہے اور ججوں کا کہنا تھا کہ بھگوانوں سے یہ توقعات کرنا مناسب نہیں ہوگا۔
عدالت کا مزید کہنا تھا کہ ’بھگوانوں کی پوجا کی جانی چاہیے، انھیں سٹاک مارکٹ جیسی تجارتی سرگرمیوں میں گھسیٹا نہیں جانا چاہیے۔‘







