امریکی دفاعی نظام چینی’سکیورٹی کے لیے خطرہ‘

،تصویر کا ذریعہAP
چین کے وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ جنوبی کوریا کو شمالی کوریا سے بچانے کے لیے امریکی دفاعی میزائل نظام چینی سکیورٹی کے لیے خطرے کا سبب بن سکتا ہے۔
وانگ یو نے برطانوی خبر رساں ایجنسی روئٹرز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ میزائلوں سے لیس دفاعی نظام جزیرہ نما کوریا کی دفاعی ضروریات سے زیادہ ہے۔ شمالی کوریا کی جانب سے رواں ماہ طویل فاصلے تک مار کرنے والے راکٹ تجربے کے بعد امریکہ اور جنوبی کوریا نے دفاعی نظام نصب کرنے کے منصوبے کا اعلان کیا تھا۔
اس سے پہلے چین اور روس کہہ چکے ہیں کہ اس نظام سے منسلک ریڈار دونوں ممالک کے اندر تک نظر رکھ سکتے ہیں۔
چینی وزیر خارجہ نے دفاعی نظام (Thaad)کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ کو اپنے حکمت عملی پر نظرثانی کرنے کی ضرورت ہے۔
’حقائق واضح ہیں، امریکہ کی جانب سےدفاعی نظام کی تعیناتی جزیرہ نما کوریا کی دفاعی ضروریات سے کہیں زیادہ ہے اور اس کی صلاحیت کا مطلب ہے کہ یہ براعظم ایشیا کے اندر تک نظر رکھ سکتا ہے۔اس سے یہ چین اور دیگر ایشیائی ممالک کے سلامتی کے سٹریٹیجک مفادات کو براہ راست متاثر کرتا ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہLockheed Martin
انھوں نے مزید کہا کہ ’عام لوگ جانتے ہیں کہ دفاعی نظام (Thaad) کی تعیناتی صرف جنوبی کوریا کے دفاع کے لیے نہیں ہے اور اس کا وسیع ایجنڈا ہے اور اس سے ممکنہ طور پر چین کو ہدف بنایا جا سکتا ہے۔‘
شمالی اور جنوبی کوریا کے درمیان راکٹ تجربے کے بعد سے کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔ جمعرات کو جنوبی کوریا کی جانب سے مشترکہ صعنتی کمپلکس کو بند کرنے کے ردعمل میں شمالی کوریا نے اس سے رابطوں کے لیے قائم کی گئی دو اہم ہاٹ لائنز بند کرنے کا اعلان کیا تھا۔ دوسری جانب جنوبی کوریا اور امریکہ کا کہنا ہے کہ دفاعی نظام صرف جنوبی کوریا کو شمالی کوریا سے لاحق خطرے سے بچانے کے لیے تیار کیا گیا ہے اور یہ چین یا کسی دوسرے ملک کو ہدف نہیں بنائے گا۔



