تمل ناڈو میں بل فائٹنگ پر پھر سے پابندی عائد

جلی کٹو تمل ناڈو میں 2,000 برس پرانا کھیل ہے اور اس کا شمار قدیم ترین کھیلوں میں ہوتا ہے

،تصویر کا ذریعہJ Suresh

،تصویر کا کیپشنجلی کٹو تمل ناڈو میں 2,000 برس پرانا کھیل ہے اور اس کا شمار قدیم ترین کھیلوں میں ہوتا ہے

بھارت کی سپریم کورٹ نے جنوبی ریاست تمل ناڈو کی حکومت کی جانب سے جلّی کٹّو (ایک قسم کی بُل فائٹنگ) کے کھیل پر عائد پابندی ختم کرنے کے فیصلے کو روک کر پابندی برقرار رکھنے کا حکم دیا ہے۔

جلّی کٹّو تمل ناڈو میں ہزاروں برسوں سے مقبول کھیل رہا ہے۔

یہ حکم سماجی کارکنوں کی جانب سے حکومت کے فیصلے کو جانوروں کے ساتھ ظلم قرار دینے کے بعد سامنے آیا ہے۔

منگل کو سپریم کورٹ کے اس فیصلے کا مطلب ہے کہ رواں سال جلّی کٹّو میلہ منعقد نہیں کیا جائے گا۔

خیال رہے کہ بھارتی کی سپریم کورٹ نے جانوروں کے تحفظ کے لیے کام کرنے والے کارکنوں کے اعتراضات کے بعد سنہ 2014 میں اس کھیل پر پابندی عائد کر دی تھی۔

تاہم گذشتہ جمعے کو ریاستی حکومت نے اس کھیل پر عائد پابندی ختم کر دی تھی۔

ریاستی حکومت کی جانب سے اس کھیل پر عائد پابندی ختم ہونے کے بعد تامل ناڈو میں رواں برس 15 جنوری سے یہ کھیل منعقد ہونا تھا۔

اس سالانہ میلے میں ہزاروں افراد بیلوں کے پیچھے بھاگ کر ان کے سینگوں پر لگے انعام کو پکڑنے کی کوشش کرتے ہیں

،تصویر کا ذریعہJ Suresh

،تصویر کا کیپشناس سالانہ میلے میں ہزاروں افراد بیلوں کے پیچھے بھاگ کر ان کے سینگوں پر لگے انعام کو پکڑنے کی کوشش کرتے ہیں

سپریم کورٹ کی جانب سے عائد پابندی کی وجہ سے گذشتہ برس یہ مقابلے منعقد نہیں ہوئے تھے۔

اس سالانہ میلے میں ہزاروں افراد بیلوں کے پیچھے بھاگ کر ان کے سینگوں پر لگے انعامات پکڑنے کی کوشش کرتے ہیں۔

پیر کو بھارت میں جانوروں کی فلاح کے ادارے کا کہنا ہے کہ وہ تمل ناڈو کی حکومت کے اس فیصلے کو عدالت میں چیلنج کیا تھا اور ان کا کہنا تھا کہ یہ ’ایک ظالمانہ کھیل ہے۔‘

جس کے بعد جانوروں کی فلاح کے ادارے نے منگل کو آنے والے عدالتی حکم کا خیر مقدم کیا۔

جلی کٹو تمل ناڈو میں 2,000 برس پرانا کھیل ہے اور اس کا شمار دنیا کے ان قدیم ترین کھیلوں میں ہوتا ہے جو آج بھی کھیلے جاتے ہیں۔