اپنے مذہب کی شادیاں نبھانا آسان؟

،تصویر کا ذریعہKarim Khan
انڈیا میں ہندو نظریاتی تنظیموں نے حال ہی میں ’لو جہاد‘ نامی مہم کے تحت مسلمان لڑکوں پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ ہندو لڑکیوں کو پیار کے جال میں پھانس کر انھیں مسلمان بناتے ہیں اور ہندو لڑکیاں ایسے لڑکوں سے بچیں۔
اس متنازع مہم کے بعد سوال اٹھنے لگا ہے کہ اس الزام میں کتنی سچائی ہے اور آیا یہ کیا صرف مسلمانوں کو نشانہ بنانے کا ایک اور نیا طریقہ ہے؟
بی بی سی کی دِویا آریہ نے ملک کے مختلف حصوں میں جاکر ایسی کہانیاں اکٹھی کی ہیں جن میں کچھ شادیاں تو کامیاب رہیں اور کچھ سماجی دباؤ اور مذہبی پیچیدگیوں کا نشانہ ہوگئیں۔
اس سلسلے کی پہلی کہانی میں آپ کی ملاقات کراتے ہیں کریم خان اور سنگیتا سے اور ان سے جانتے ہیں کہ وہ اب کیوں نہیں چاہتے کہ ان کی بیٹی دوسرے مذہب میں شادی کرے۔
’سنگیتا اور میں (کریم خان) بہت مشکل حالات میں ایک دوسرے سے ملے تھے۔ میرے والد بہت بیمار تھے، انھیں لقوا ہوگیا تھا اور میں نے انھیں ممبئی کے ایک ہسپتال میں داخل کرایا تھا۔
سنگیتا وہاں بی ایس سی نرسنگ کی تعلیم حاصل کر رہی تھیں تو میرے والد کی فائل ان کے پاس گئی۔ میرا پورا خاندان بھوپال میں تھا اور میں ممبئی میں اکیلا۔ سنگیتا نے مجھے بہت سہارا دیا۔ میں ان سے اپنے دل کی بات کرتا تھا اور اسی طرح ایک سال گزر گیا۔
پھر ایک دن میں نے ایک مریض کے ہاتھ انھیں خط بھیجا جس میں میں نے اپنی محبت کا اظہار کیا تھا۔
جواب میں سنگیتا نے پوچھا کہ جسسے پیار کرتے ہو ان سے شادی بھی کروگے؟ میں نے اس بارے میں کچھ نہیں سوچا تھا، اس لیے منع کر دیا۔ میرے ایک دوست نے انھیں یہ بات بتائی تو سنگیتا نے کہا کہ وہ شادی کے علاوہ کوئی اور رشتہ نہیں رکھنا چاہتیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
آخر میں راضی ہوگیا اور سنگیتا کی ملاقات اپنے والد سے کرائی۔ میرے والد نے کہا اگر تم اس کے ساتھ گھومتے ہو اور تمہاری دوستی ہے تو شادی بھی اسی سے کرو۔ لیکن میری والدہ کے خیالات تھوڑے مختلف تھے۔ انھوں نے کہا کہ ’تم ہندو لڑکی سے شادی کر رہے ہو، اس کی شکل و صورت بھی بہت اچھی نہیں ہے۔ کوئی بات نہیں، تم ایک خوبصورت مسلمان لڑکی سے دوسری شادی کر لینا۔‘
میری والدہ بہت دنوں تک میرے لیے مسلمان لڑکی کو تلاش کرتی رہیں۔
میری بیوی نے بھی مجھے دوسری شادی کی اجازت دے دی لیکن ایسا ہرگز نہیں کر سکتا تھا۔
میرے والدہ اس بات سے بھی نالاں تھیں کہ سنگیتا نوکری کرتی تھی۔ ان کے مطابق گھر کی بہو کو گھر اور بچوں کی دیکھ بھال کرنی چاہیے۔ چونکہ میری والدہ مجھے بہت پیار کرتی تھیں اور میری ہر بات مانتی تھیں اس لیے میں نے انھیں اس بات کے لیے راضی کر لیا کہ سنگیتا جیسی ہے ویسی ہی رہے گی اور میں دوسری شادی نہیں کروں گا۔
1995 میں ہم نے کورٹ میرج کی اور 1997 میں نکاح کیا۔ سنگیتا کے گھر والے دس دن ہمارے گھر رہے۔ نکاح ہوا اور پھر ہم نے ایک بڑی دعوت کا اہتمام کیا۔

،تصویر کا ذریعہKarim Khan
میں نے نکاح کیا لیکن اگر سنگیتا کے گھر والے یہ کہتے کہ میں ہندو روایت کے مطابق پھیرے بھی لوں تو میں یہ ضرور کرتا، لیکن انھوں نے ایسا کہا نہیں۔
میں نے سنگیتا سے کبھی نہیں کہا کہ وہ اپنا مذہب تبدیل کرے۔
ہمارے رشتے کی ابتدا تو ایک ہسپتال میں ہوئی لیکن اس طرح کی دوستیاں سکول اور کالجوں سے شروع ہو جاتی ہیں۔
آج ہماری شادی کامیاب ہے، سب کچھ صحیح ہے۔ میرا کاروبار اچھا چل رہا ہے اور سنگیتا اپنی نوکری کر رہی ہے اور ہماری ایک بیٹی ہے۔
مگر بہت سے ایسے تجربات ہیں جن کی بنیاد پر لگتا ہے کہ ہمیں شادی نہیں کرنی چاہیے تھی۔ ہم اپنی بیٹی کو بھی سمجھاتے ہیں کہ وہ غیر مذہب کے لڑکے سے شادی نہ کرے۔
ہمارے درمیان آج بھی کھانے سے متعلق بحث ہوتی ہے۔ ہم لوگ مغلئی کھانے کھاتے ہیں اور سنگیتا کے یہاں سارا کھانا ناریل کے تیل میں بنتا ہے۔ اسی لیے اکثر ہم گھر سے باہر ہی کھانا کھاتے ہیں۔
تہواروں پر زیادہ مزا نہیں آتا۔ جب لوگوں سے ملتے ہیں تو انھیں بھی بہت کچھ بتانا پڑتا ہے۔
اتنے سال بعد اب سنگیتا کو ہماری ثقافت کا تھوڑا بہت اندازہ ہوا ہے۔ ہمارے گھر کے بزرگوں کے سامنے وہ سر ڈھانپتی ہے، ورنہ اس کے گھر میں تو خواتین سر نہیں ڈھانپتیں۔
ہمارا رشتہ بہت مضبوط ہے۔ میں اور سنگیتا ایک دوسرے سے محبت کرتے اور ایک دوسرے کا درد سمجھتے ہیں۔ ہمیں آج بھی لگتا ہے کہ ہمارا فیصلہ درست تھا۔ لیکن ہاں کبھی کبھی صرف اس بات کا احساس ہوتا کہ اگر ایک ہی مذہب میں شادی کرو تو اسے نبھانا بہت آسان ہوتا ہے۔







