’ہم اس کی اجازت نہیں دیں گے‘

زندگی کے تمام شعبوں میں امریکہ مخالف بیانات میں اضافہ ہوا ہے

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشنزندگی کے تمام شعبوں میں امریکہ مخالف بیانات میں اضافہ ہوا ہے
    • مصنف, کسری ناجی
    • عہدہ, بی بی سی فارسی

گذشتہ ہفتے جب شمالی تہران میں شہر میں کھولنے والے پہلے کے ایف سی ریسٹورنٹ کو پولیس اور عدلیہ کی جانب سے بند کروایا گیا تو چند ایرانی حیران رہ گئے۔

کئی افراد کے خیال میں ریسٹورنٹ کے مالک نے عوام کے موجودہ مزاج کے بارے میں درست اندازہ نہیں لگایا ہے۔ مالک نے احتجاج کیا تھا کہ اُس کا ریسٹورنٹ امریکی نہیں بلکہ ترکی کی کمپنی کی فرنچائز ہے۔ بیرون ملک سے آ کر ایران میں کاروبار کرانے والوں کے لیے ایران کے دروازے بند ہیں۔

گذشتہ چند ہفتوں کے دوران سخت گیروں نے ایرانی صدر حسن روحانی کے خلاف محاذ کھول رکھا ہے۔ حالیہ جوہری معاہدے کے تناظر میں اُن کو لگتا ہے کہ حسن روحانی ملک کو مغرب کی جانب دھکیل رہے ہیں۔

اُنھوں نے امریکہ پر بھی الزام لگایا ہے کہ وہ ایران کے خلاف اپنے ایجنٹ کے ذریعے مختلف ریاستی اداروں میں ’دراندازی‘ کر کے ملکی معاملات میں واپس آنے کی کوشش کررہا ہے۔

زندگی کے تمام شعبوں میں امریکہ مخالف بیانات میں اضافہ ہوا ہے اور رواں ماہ سنہ 1979 میں تہران میں امریکی سفارت خانے پر ہونے والے حملے کی یاد بھی منائی جارہی ہے۔

وسطی تہران میں ایک بڑا پوسٹر لگایا گیا ہے جس میں مشہور امریکی جنگ لو جیما کی تصویر لگائی گئی ہے اور اس کو دیکھ کر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ امریکی فوجی انسانی لاشوں پر کھڑے ہو کر جھنڈا لہر رہے ہیں۔

دراندازی کرنے والے ایجنٹ

جیسے کہ امکان ہے کہ سخت گیروں کے پاس اپنے دعووں کو بنیاد فراہم کرنے کے لیے کوئی ثبوت نہیں ہے اور ثبوت دینے کے بجائے وہ اپنے سپریم رہنما آیت اللہ علی خامنہ ای کے نظریہ کا استعمال کررہے ہیں۔

صدر روحانی صحافیوں کی گرفتاریوں پر کہا کہ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ایک گروہ دیگر لوگوں کو خاموش کرنا چاہتا ہے۔
،تصویر کا کیپشنصدر روحانی صحافیوں کی گرفتاریوں پر کہا کہ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ایک گروہ دیگر لوگوں کو خاموش کرنا چاہتا ہے۔

امریکہ اور دیگر بڑی قوتوں کے ساتھ جوہری معاہدہ کے تحت ایران اپنے جوہری پروگرام کو محدود کرے گا اور اُس کے جواب میں اُس پر سے عالمی پابندیاں ہٹائی جائیں گی۔

اُس وقت آیت اللہ علی خامنہ ای نے کہا تھا کہ ’امریکہ ان (جوہری) مذاکرات اور معاہدوں کو استعمال کرکے ایران میں دراندازی کرنا چاہتا ہے۔

اُن کا کہنا تھا کہ ’ہم نے پہلے بھی اِسے ختم کیا تھا اور ہم مستقبل میں بھی یہ کوششیں روکیں گے۔ ہم اُن کو اِس بات کی اجازت نہیں دیں گے کہ وہ ہماری معیشت یا ہمارے معاشرے،ہمارے سیاسی نظام کو متاثر کرنے کی کوشش کریں۔‘

سخت گیر جن کے کنٹرول میں، پولیس، پاسداران انقلاب، تحقیقاتی ایجنسیوں سمیت کئی اہم ادارے ہیں اور ریاستی نشریاتی ادارے اِن تازہ کارروائیوں کا جواز پیش کرنے کے لیے سپریم لیڈر کے جملوں کا استعمال کررہے ہیں۔

اُنھوں نے کچھ بتائے بغیر متعدد ممتاز صحافیوں کو گرفتار کیا ہے۔ اگرچہ ریاستی ٹی وی پر نے اُن صحافیوں پر ’امریکی درانداز ایجنٹ‘ ہونے کا الزام عائد کیا ہے۔

صدر روحانی نے بھی اِس پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ اِن گرفتاریوں سے محسوس ہوتا ہے کہ ایک گروہ دیگر لوگوں کو خاموش کرنا چاہتا ہے۔ اُنھوں نے سخت گیر اخباروں کے لیے ریاستی امداد بھی کم کردی کہ یہ جوہری منصوبے کے خلاف مہم چلارہے ہیں۔

کاروباری افراد کی گرفتاریاں

صدر روحانی کے تبصروں کو ریاست کے زیر اثر ذرائع ابلاغ نے مکمل نظر انداز کیا اور ان کے بیان کو شائع نہیں کیا گیا۔

پارلیمان غیر معمولی صاف گو لیکن قدامت پسند رکن علی موتھرائی نے گرفتاریوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ حملوں کی نئی لہر صحافیوں کو ڈرانے اور اُن کی آواز بند کرانے کا حصہ ہے۔

ریاستی نشریاتی ادارے اِن تازہ کارروائیوں کا جواز پیش کرنے کے لیے سپریم لیڈر کے جملوں کا استعمال کررہے ہیں

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشنریاستی نشریاتی ادارے اِن تازہ کارروائیوں کا جواز پیش کرنے کے لیے سپریم لیڈر کے جملوں کا استعمال کررہے ہیں

سپریم نیشل سکیورٹی کونسل کے سربراہ علی شامخانی کا بھی کہنا ہے کہ اِس مہم کا مقصد حریفوں کو ختم کرنا ہے۔عدلیہ میں موجود سخت گیروں نے دو کاروباری حضرات کو بھی گرفتار کر لیا ہے۔

ایک کاروباری شخصیت نِظار زکا ہیں جو کہ لبنانی آئی ٹی ماہر اور ایک عاکمی مذاکرہ میں شرکت کے لیے حکومت کی درخواست پر ایران تشریف لائے تھے اور دوسرے دبئی سے تعلق رکھنے والے امریکی نژاد ایرانی سائمک نمازی ہیں۔دونوں کو حالیہ ہفتوں میں نامعلوم الزامات کے تحت گرفتا کیا گیا ہے۔

اِن گرفتاریوں کے ذریعے سے بیرون ملک کاروباری طبقے کو بھی یہ مضبوط پیغام دیا گیا ہے کہ جوہری توانائی کے معاہدے کے نتیجے میں بھی تجارت اور سرمایہ کاری کے لیے ماحول تبدیل نہیں ہوا۔

فخر کرنے کے لیے کیا ہے؟

سخت گیر اِس معاہدے کے ساتھ خوش نہیں ہیں۔ اُن کو لگتا ہے کہ ایران کو ممکنہ طور پر جوہری ہتھیار تیار کرنے سے روکنا ہے، کم سے کم مستقبل قریب میں تو ایسا ہی ہے۔

وہ بھی پریشان ہیں کہ صدر روحانی کی بیرون ملک روابط کے پل تعمیر کرنے کی پالیسی ایران کو مغرب نواز ماحول کی جانب لے جارہی اور اِس سے اندرونی طور پر اُن کی پوزیشن مستحکم ہوگی۔

صدر روحانی فخریہ طور جوہری معاہدے کو کامیابی کہتے ہیں لیکن سخت گیروں کو اِس بات سے اختلاف ہے۔ رواں ہفتے عالم دین اور ایرانی عدلیہ کے سربراہ صادق لریجانی کا کہنا تھا کہ ’اِس معاہدے میں فخر کرنے کے لیے کیا ہے؟۔‘

سخت گیر مجبوراً جوہری معاہدے کے ساتھ چل رہے ہیں کیونکہ آیت اللہ خامنہ ای بادل نخواستہ اِس کی منظوری دے چکے ہیں۔

یہ بات ریکارڈ پر ہے کہ اُن کا کہنا تھا کہ وہ یہ معاہدہ صرف اِس لیے قبول کرہے ہیں کیونکہ وہ عالمی پابندیوں کو ہٹتے ہوئے دیکھنا چاہتے ہیں۔ پابندیوں کے باعث میعشت تباہ اور اسلامی ریاست کا استحکام خطرے میں ہے۔

شام کے مذاکرات پر پریشانی

اِس وجہ سے سخت گیر کافی پریشانی کا شکار ہیں۔ اُنھیں نہیں معلوم کے شامی مذاکرات میں شمولیت پر تنقید کی جائے یا تعریف کی جائے۔

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشناِس وجہ سے سخت گیر کافی پریشانی کا شکار ہیں۔ اُنھیں نہیں معلوم کے شامی مذاکرات میں شمولیت پر تنقید کی جائے یا تعریف کی جائے۔

اُنھوں نے ایران کے سرکاری عہدیداروں پر دیگر معاملات میں امریکہ کے ساتھ مذاکرات کرنے پر پابندی لگادی ہے جیسا کہ شام کی جنگ یا خود کو دولت اسلامیہ کہلانے والی تنظیم کے خلاف لڑائی میں تعاون جیسی باتیں شامل ہیں۔

لیکن مجبوریاں اُن کے دماغ کو تبدیل کرہی ہیں، اس کی جھلک اُس وقت نظر آئی جب امریکی وزیر خارجہ کی جانب سے منعقد کردہ شام کے تنازعے پرمذاکرات میں اُنھوں نے خاموشی سے ایران کو اُس میں شرکت کی اجازت دے دی۔

اِس وجہ سے سخت گیر کافی پریشانی کا شکار ہیں۔ اُنھیں نہیں معلوم کے شامی مذاکرات میں شمولیت پر تنقید کی جائے یا تعریف کی جائے۔

لیکن وہ اگلے ہفتے صدر روحانی کے اٹلی اور فرانس کے سرکاری دورہ کو تیز نظروں سے دیکھ رہے ہیں۔

ایرانی اور فرانسیسی حکام کے درمیان اِس بات پر کشیدگی کی خبریں گردش کررہی ہیں کہ فرانس کے صدر کی جانب سے دیے جانے والے سرکاری عشائیے کے کھانوں کی فہرست میں شراب ہونے چاہیے یا نہیں۔

یہ صورتحال ماضی کی عکاسی کررہی ہے جب 16 سال قبل ایران کے اُس وقت کے صدر محمد خاتمی نے فرانس کا دورہ کیا تھا۔

اُس وقت اور اب بھی سخت گیروں کے مسلسل دباؤ کا مقابلہ کرنے کے لیے اعتدال پسند ایرانی صدر کی صلاحیت اور استعداد کم ہے۔